تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 98
۹۸ حضرت عبداللہ بن عباس خاندان نبوت میں پروان چڑھے اور آغاز طفولیت سے ہی انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نجی زندگی اور بیرونی مصروفیات میں بھی قرب میسر رہا۔اس کے نتیجہ میں انہوں نے بہت کچھ آپ سے سنا اور سیکھا۔حضرت ابن عباس اکثر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت مبارکہ سے مستفید ہوتے اور آپ کی شفقت عالیہ سے فیض یاب ہوتے۔نیز رسالت کے آخری حصہ میں مختلف امور میں بذات خود شریک ہوئے۔اس لئے آپ کو متعدد قرآنی آیات کے شان نزول کے بارہ میں ذاتی علم تھا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں آپ سن شباب کو پہنچ چکے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کو ایک قیمتی گوہر پا کر خاص طور پر اپنے دامن تربیت میں لے لیا اور اکا برصحابہ کی علمی صحبتوں شریک کیا کرتے۔یہاں تک کہ لوگوں کو ان پر رشک ہوتا۔خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے اور یہ آپ کے مشیروں میں سے تھے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کی کثرت علم وفضل کی بناء پر جبر یعنی عظیم عالم اور نگر یعنی سمندر کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔حضرت میمون کہتے ہیں کہ میں نے اُن سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں دیکھا۔“ آپ ایک عظیم مفسر قرآن تھے۔آپ کے دور میں اکثر ایسے پیچیدہ تفسیری مسائل پیش آئے جن کی عقدہ دری ابن عباس نے اس طرح فرمائی جیسے وہ شخص جو الہام ربانی کی مدد سے غیبی حقائق کا معائینہ کر رہا ہو۔جیسا کہ خود حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی شان میں فرمایا تھا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صحابہ کرام آپ کے تفسیری اقوال کو بڑی وقعت اور اہمیت کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔دور تابعین میں بھی اسی کی بازگشت سنائی دیتی رہی۔ور الهالله كان صحابہ کرام کا انفاق فی سبیل اللہ مکرم مولا نا غلام باری سیف صاحب نے صحابہ کرام کا انفاق فی سبیل اللہ پر اپنے مقالہ میں فرمایا: سورہ بقرہ کے چھتیسویں اور سینتیسویں رکوع میں انفاق فی سبیل اللہ کی حکمتیں ، اس کے فوائد اور اس کے آداب کا مختلف رنگوں میں ذکر ہے۔ان کی تفصیل کا بیان اس وقت مقصود نہیں صرف صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر مقصود ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے تو یہ امر کھل کر سامنے آتا ہے کہ آپ کے تربیت یافتہ یہ سمجھتے تھے کہ خدا کی ہر عطا اُس کی امانت ہے اور امین وہی ہے جو طلب کرنے پر اُسے خوش دلی سے ادا کرتا ہے۔یہ جب اُس کی دین ہے تو مالک وہی ہے۔ہمارے پاس یہ امانت ہے اور مستعار ہے۔ہم مالک نہیں اور ان کی نظر قرآن مجید کی اس آیت پر تھی کہ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ کہ اللہ تعالیٰ پر ہیز گاروں کا ہی مال قبول کرتا ہے۔اس ضمن میں پہلی مثال میں صحابہ میں سب سے اعلم ، اخشی اور اتھی یعنی سید نا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ