تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 97 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 97

۹۷ محد ثین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور سیرت پر بہت قابل ستائش کام کیا ہے۔امام زرقانی نے قریباً سوصفحات پر مشتمل ایک باب قائم کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش خلقی اور خندہ پیشانی کے بارہ میں بہت قابل قدر مواد جمع کیا ہے۔اس میں ایک عنوان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش خلقی اور خندہ پیشانی کے بارہ میں ہے۔امام ترندی رحمۃ اللہ علیہ نے ابواب البرو الصلة یعنی نیکی اور باہم تعلقات کے تحت ایک باب بعنوان باب ماجاء فی طلاقة الوجہ قائم کیا ہے۔اس میں حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا كُلُّ معروف صَدَقَةٌ وَ إِنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ أَن تَلْقَ أَخَاكَ بوجه طلیق۔کہ ہراچھی بات ایک نیکی ہے اور یقینا یہ بھی نیکی ہے کہ تو اپنے بھائی سے خندہ پیشانی اور کھلے چہرے سے ملے۔خوش مزاجی اور خندہ پیشانی کی وجہ بیان کرتے ہوئے شارحین حدیث نے کہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے مزاح فرماتے کہ لوگوں کو آپ کی پیروی کا حکم تھا۔اگر حضور خندہ پیشانی اور بشاشت کا اظہار نہ کرتے۔آپ کے ماتھے اور چہرہ پر ترش روئی کا اظہار ہوتا تو مجلس میں ایک تکلیف دہ کیفیت پیدا ہو جاتی۔اس لئے حضور خوش مزاج تھے اور مزاح سے کام لیتے تھے تاکہ لوگوں میں ایک شگفتگی اور خوشی پیدا ہو۔احادیث کے مطالعہ سے اس خندہ پیشانی کی ایک اور وجہ بھی سامنے آتی ہے کہ حضور کے مجلس کا ایک یہ اثر بھی ہوتا تھا کہ دنیا سے بے رغبتی رہتی تھی اور آخرت کا تصور غالب رہتا تھا۔اگر یہی کیفیت سارا وقت دل و دماغ پر حاوی رہے تو انسانی جسم اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔مامور زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ مزاح و خوش خلقی نہ ہو تو انسانی دماغ ہر وقت غم و فکر میں ہی ڈوبا ر ہے۔بے شک یہ تصور بھی مذہب کی جان ہے لیکن خرش روئی اور ہر وقت چہرے پر تیوریوں کا چڑھا رہنا بھی ایک مومن کے شان شایاں نہیں ہے بالخصوص وہ طبقہ جس کا تعلق اور دائر عمل عوام الناس سے ہو۔چہرہ پر مسرت و شادمانی کا شیوہ مومناں ہے اور دلوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے بھی ضروری ہے کہ چہرہ پر خندہ پیشانی ہو اور مسکراہٹ کھیل رہی ہو۔۴۱ ) سیرت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سیرت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے بارہ میں مکرم مولانا نورالحق صاحب تنویر استاذ الجامعه نے فرمایا کہ میں اس ہستی کی سیرت کے چند پہلو آپ کے سامنے بیان کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں جن کی پیدائش پر فخر کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے تبرک کے طور پر ان کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈال کر اُن کے حق میں دُعا فرمائی۔میری مراد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ہے۔آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چازاد بھائی تھے۔آپ کی والدہ کا نام لبابہ اور کنیت ام الفضل تھی۔