تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 87 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 87

۸۷ آہستہ آہستہ سمجھاتے ہوئے میں نے دیکھا کہ بچوں کی آنکھوں میں بھی چمک ہے۔اور ماشاء اللہ وہ دلچسپی لے رہے ہیں۔اور جو بڑے آئے ہوئے تھے ان میں ہندو بھی تھے اور عیسائی بھی تھے۔انہوں نے بڑی گہری دلچسپی لینی شروع کر دی اور کافی دلچسپ خطاب ہوا۔اور وہاں سب کی طرف سے بہت دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔چنانچہ میں نے انہیں ہدایت دی کہ جو لوگ دلچسپی لے رہے ہیں ان کے ADDRESSES لکھے جائیں اور بعد میں ان سے رابطہ رکھیں۔اُمید ہے کہ جماعت احمد یہ نبی ان سے رابطہ رکھے گی۔پس واقعہ اس زمین کے کنارے پر خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام پہنچانے کی توفیق عطا فرمائی۔دوسرے وہاں جا کر ہمیں یہ عجب ہوا کہ وہاں بھی پہلے سے ہی جماعت موجود تھی حالانکہ جماعتوں کی جو باقاعدہ رسمی فہرستیں ہمیں دکھائی گئی تھیں ان میں تو یونی (TEVUNI) کا نام نہیں تھا۔کہ وہاں کوئی جماعت ہے۔مگر جب وہاں پہنچے تو با قاعدہ جماعت موجود تھی اور وہ اپنے محبت کے اظہار کے لئے ہار لے کر آئے ہوئے تھے۔ان میں مرد بھی تھے عورتیں بھی تھیں اور ایک جوڑے کے متعلق تو علم ہوا کہ وہ وہاں بڑا اچھا مبلغ ہے اور کافی تبلیغ کر رہا ہے۔تو ان سے میں نے کہا کہ آپ یہاں ہمارے با قاعدہ رضا کار مبلغ ہیں اور ہم نے آپ سے پوری جماعت لینی ہے تو انہوں نے بڑی محبت اور خوشی سے کہا کہ ہاں ہم انشاء اللہ تعالی تبلیغ کریں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سمیٹنے کے لئے پوری تیاری ہونی چاہئیے پس اللہ تعالیٰ خود ہی اپنی طرف سے جگہ جگہ انتظامات فرما رہا ہے۔لیکن جس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل ظاہر ہورہے ہیں۔انہیں سمیٹنے کے لئے بھی تو پوری تیاری ہونی چاہئیے۔جب پھل پکتے ہیں تو اس وقت بھی ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوا کرتی ہے۔پھل پکتے ہیں تو بغیر محنت کے ملنے شروع ہو جایا کرتے ہیں۔یہ درست ہے کہ بعض دفعہ صرف درخت کو جھنجھوڑ نا پڑتا ہے لیکن اس پھل کو سمیٹنا اور اس سے استفادہ کرنا بھی محنت چاہتا ہے۔یہ مفت میں نہیں آجایا کرتا۔۔۔پس اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنی چاہئیے کہ ہمیں سمیٹنے کی توفیق ملے کیونکہ جس طرح ہر جماعت میں دلچسپی پیدا ہورہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل غیر معمولی طور پر ظاہر ہو رہے ہیں۔اب تو سمیٹنے کی بڑی سخت فکر پیدا ہورہی ہے۔غیر ملکی زبانیں سیکھئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بھی بڑے دیر سے کہتے رہے اور بار بار بہت زور دیا اور بعض اوقات خفگی کا بھی اظہار کیا لیکن پتہ نہیں ہمارے مزاج میں خصوصاً پنجابی مزاج میں