تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 1012
۱۰۱۲ جائے۔پس سیدنا حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ جو عظیم الشان مقاصد لے کر دنیا میں ظہور فرما ہوئے۔اُن کی تکمیل کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور اہلیتوں کو وقف کر دیں۔آپ کے دائیں بائیں طرح طرح کی ظلمتوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور اُن تاریکیوں میں انسانیت بھٹک رہی ہے۔آپ کا فرض ہے کہ ہر طرف نور تقوی کی شمعیں روشن کریں اور ظلمت میں بھٹکتی ، بے قرار روحوں کو اپنی مساعی ، اپنے نمونہ اور اپنی عاجزانہ ( دعاؤں کے۔۔۔۔نور میں بھینچ لائیں۔سید نا حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ صحیح مسلم کی اُس حدیث کا ذکر کرتے ہوئے جس میں مسیح موعود کے منارہ کے پاس نزول کا بیان ہے۔فرماتے ہیں: وو۔وَاخْتَارَ ذِكْرَ لَفْظِ الْمَنَارَةِ إِشَارَةً إِلَى أَنَّ أَرْضَ دِمَشْقَ تُنِيرُ وَ تُشْرِقُ بِدَعْوَاتِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ بَعْدَ مَا أَظْلَمَتْ بِانْوَاعِ الْبِدْعَاتِ۔یعنی حضرت اقدس سید نا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منارہ کا لفظ اس کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال کیا کہ دمشق کی سرزمین طرح طرح کی بدعات کی ظلمتوں میں رہنے کے بعد مسیح موعود کی دعاؤں سے روشن ہوگی۔﴿۵۰﴾ پس اپنے وسیع ماحول کی ظلمتوں کو عاجزانہ مساعی اور مضطر بانہ دعاؤں کے ساتھ نور مسیح محمدی سے منور کرنا آپ کا اولین فریضہ ہے۔66 امر دوم یہ کہ آپ سب انصار اللہ کہلاتے ہیں اور قرآن کریم کی رُو سے نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ “ ایک ایجابی اقرار ہے جو مَنْ اَنْصَارِی اِلَی اللہ کی صدا کے جواب میں ایک والہانہ لبیک ہے۔مَنْ أَنْصَارِی اِلَى الله کے اندر دو حقیقتیں نہاں ہیں۔اوّل یہ کہ خدا کے مسیح کے آپ انصار اور دست و بازو ہیں۔دوئم یہ کہ آپ کی منزل " أنْصَارِى إِلَى الله " کے مطابق وصول الی اللہ “ ہے۔اللہ تک رسائی کے ساتھ ہی انصار اللہ کہلا نا حقیقت پر مبنی ٹھہرتا ہے۔خدا کرے کہ آپ سب اللہ تک رسائی کا وہ بلند و بالا مقام حاصل کرنے والے ہوں جس بلند مقام پر خدا کے مسیح موعود نے اپنے انصار کوفائز دیکھنے کی خاطر " مَنْ اَنْصَارِی اِلَى اللهِ " کی صدا بلند کی تھی۔وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيز - والسلام خاکسار نواں سالانہ اجتماع ۲۰،۱۹ اکتوبر ۱۹۸۸ء کو قادیان میں منعقد ہوا۔مرزا طاہر احمد (خلیفہ اسیح الرابع ) ، ، ۵۱