تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 1013 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 1013

١٠١٣ انڈونیشیا ۱۹۸۲ء سے ۱۹۸۷ ء تک بحیثیت مشنری انچارج مکرم مولانامحمود احمد صاحب چیمہ نائب صدر ملک کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔۱۹۸۱ء میں مکرم ای عبد المنان صاحب کو ناظم اعلیٰ ملک مقرر کیا گیا۔بعدہ ۱۹۸۳ء اور ۲۹ دسمبر ۱۹۸۵ء کے اجتماع کے دوران بھی انہی کا انتخاب بطور ناظم اعلیٰ ہوا۔رپورٹ کارگزاری ۱۹۸۲ء دوسرے سالانہ اجتماع منعقدہ ۱۷۔۱۸ اکتوبر۱۹۸۲ء کے موقع پر ناظم صاحب اعلیٰ نے جور پورٹ کارگزاری پیش کی۔اس کا مختصر خلاصہ کچھ اس طرح ہے۔شعبه به تبلیغ تبلیغ کے سلسلہ میں "HOW OLD IS THE WORLD" اور QASIDAH OF THE" "PROMISED MESIAH مجالس کو بھجوایا گیا۔شعبہ تربیت: گزشتہ اجتماع کے موقع پر جو تربیتی پروگرام وضع کیا گیا تھا، اُس کے مطابق ” تیسویں پارے کی دس سورتوں کو حفظ کرنا ، کشتی نوح“ کا مطالعہ اور اسلامی ثقافت کی گھروں میں ترویج انصار کی ذمہ داری قرار دی گئی تھی۔امسال اس پروگرام کے علاوہ سورۃ الکہف کی پہلی اور آخری دس آیات بھی شامل کی گئیں۔شعبہ تصنیف : شعبہ تصنیف کے تحت مندرجہ ذیل کتب شائع کی گئی۔"HOW OLD IS THE WORLD" - 1 "QASIDAH OF THE PROMISED MESIAH" - تعداد اشاعت ایک ہزار تعدا دا شاعت اڑھائی ہزار شعبه مال : مجالس کے آمدہ بجٹ کا گوشوارہ سال ہذا وگزشتہ کچھ اس طرح سے ہے چنده مجلس ۱٫۹۳۴,۹۰۷ انڈونیشین رو پے چندہ اجتماع ۲۴۱,۸۶۶ انڈونیشین روپے چندہ اشاعت لٹریچر ۸۵,۴۷۰ انڈونیشین روپے میزان ۲,۲۶۲,۲۴۳ انڈونیشین روپے ۹ منتشر مجالس کا بجٹ دو لاکھ بیس ہزار دو صد پچیس روپے ، اس کے علاوہ تھا۔اس طرح کل بجٹ چوبیس لاکھ تر اسی ہزار چا رصد ا ٹھا نوے روپے کا تھا۔اجتماع تک آمد کا کل گوشوارہ یہ تھا۔تیرہ با قاعدہ مجالس کی طرف سے آمد: دس لاکھ اُناسی ہزار چھ سوستانوے روپے ساٹھ پیسے نو منتشر مجالس کی طرف سے آمد: دولاکھ بیس ہزار دوصد چھپیں روپے صرف۔اس طرح کل آمد گیارہ لاکھ بیاسی ہزار تین صد پینتالیس انڈونیشین رو پے تھی۔