تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 1010 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 1010

1+1+ -9 ایسے حلقے جہاں احمدیت کا پیغام مکمل طور پر نہیں پہنچا، وہاں اشاعت لٹریچر کے لئے پروگرام بنایا گیا۔مندرجہ ذیل تین حلقے تجویز کئے گئے (i) زیورک، برن، جینیوا اور بازل میں مقیم غیر ملکی ڈپلومیٹس جن کی زبانوں میں لٹریچر پیش کرنا ممکن ہے (ii) پاکستانی مقیم سوئٹزرلینڈ (iii) آسٹریا۔اس کام میں بہت کامیابی ہوئی۔بھارت ملکی تقسیم کے بعد ۱۹۵۰ء میں مجلس انصار اللہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ابتداء میں مخدوش ملکی حالات کی وجہ سے مجلس کی سرگرمیاں قادیان تک ہی محدود ر ہیں۔۱۹۷۳ء سے مکرم قریشی عطاء الرحمن صاحب انصار اللہ کے صدر منتخب ہوئے۔حالات بہتر ہونے کے نتیجہ میں اُن کے دور صدارت میں باسٹھ مجالس کا قیام عمل میں آیا۔۱۹۷۷ء میں مکرم قریشی عطاء الرحمن صاحب کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے مکرم مولوی بشیر احمد صاحب خادم کو صدر مقرر فرمایا۔ان کے دور میں انصار اللہ نے کافی ترقی کی اور دفتر مجلس انصار اللہ کی عمارت تعمیر ہوئی تنظیمی کاموں میں وسعت اور باقاعدگی پیدا ہوئی۔خادم صاحب ۱۹۷۷ء سے ۱۹۸۵ ء تک صدر انصار اللہ بھارت رہے۔۱۹۸۵ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر صدر کانیا انتخاب ہوا۔حضرت خلیفۃالمسیح الرابع کی منظوری سے مارچ ۱۹۸۶ء سے مکرم مولا نا محمد انعام صاحب غوری انصار اللہ بھارت کے صدر مقرر ہوئے۔اُن کے دور میں مجالس کی تعداد بڑھ کر ایک سو چالیس ہو گئی۔دینی نصاب کے امتحان کا سلسلہ شروع کیا گیا۔۱۹۸۷ء سے با قاعدہ بجٹ بن کر مجلس شوریٰ میں پیش ہوا اور پھر شوری کی سفارش پر حضرت خلیفۃ اصیح الرابع نے پچہتر ہزار روپے کے بجٹ کی منظوری عطا فرمائی جس کے مقابل پر وصولی خدا کے فضل سے بیاسی ہزار تین سو سینتیس روپے ہوئی۔سالانہ اجتماعات دوسرا سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ مرکز یہ قادیان کا دوسرا سالانہ اجتماع ۲۲٬۲۱ اکتوبر ۱۹۸ء کو منعقد ہوا۔اس اجتماع کے موقعہ پر سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے از راہ محبت و شفقت انصار دوستوں کو اپنے دو پیغامات سے نوازا۔۴۷) آٹھواں سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ بھارت کا آٹھواں سالانہ اجتماع ۷، ۸ اکتوبر ۱۹۸۸ء کو منعقد ہوا۔اس موقع پر سید نا حضرت خلیفة اسم الرابع رحم اللہ تعالی نے درج ذیل پیغام بھجوایا۔پیغام حضرت خلیفہ اسیح الرابع مکرم صدر صاحب مجلس انصار اللہ مرکز یہ بھارت قادیان