تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 1006 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 1006

10+9 گیارہواں سالانہ اجتماع مجلس بنگلہ دیش کا گیارہواں سالانہ اجتماع ۱۳ اور ۱۴ اکتوبر ۱۹۸۸ء کوڈھا کہ میں منعقد ہوا۔ملک بھر سے تینتالیس مجالس کے ایک سو چھیاسٹھ نمائندگان کے علاوہ پچہتر انصار نیز خدام کی بھاری اکثریت نے شرکت کی۔جن موضوعات پر تقاریر اور مجالس کا انعقاد ہوا۔اُن میں مباہلہ اور ہستی باری تعالیٰ ، حیات طیبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، نظام وصیت، آیت خاتم النبین کا حقیقی مفہوم، صد سالہ جشن تشکر علمی مذاکره، تحریک دعوت الی اللہ ، برکات خلافت، شادی سے متعلق مسائل ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم بر مسئلہ جہاد، آنے والی صدی میں جماعتِ احمدیہ کی ذمہ داریاں اور جلسہ سالانہ لندن شامل ہیں۔اختتامی تقریب میں تین سو پچاس انصار، بہت سے خدام واطفال کے علاوہ پچاس غیر از جماعت احباب نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر دو دوستوں نے بیعت کا شرف حاصل کیا۔ماریشس ماریشس میں مجلس انصاراللہ کا با قاعدہ قیام جنوری ۱۹۷۷ء میں ہوا تھا اور ابتدا ملک میں چھ مجالس قائم کی گئیں۔پھر ۱۹۷۹ء میں دو جبکہ ۱۹۸۴ء میں ژانچلی (Gentilly) اور کارچ ملیتر Quartier Millitaire کے مقامات پر اور ۱۹۸۶ ء میں کیوپپ (Cuprepipe) کے مقامات پر مجلس کا قیام کیا گیا۔مندرجہ ذیل مشنری انچارج صاحبان کو بطور نائب صدر خدمت کی توفیق ملی۔مکرم مولانا صدیق احمد صاحب منور ( ۱۹۷۷ء تا ۱۹۸۳ء ) ، مکرم مولانا محمد اسلم قریشی صاحب (۱۹۸۳ء۔۱۹۸۶ء) ، مکرم مولانا سید حسین احمد صاحب (۱۹۸۶ء تا ۱۹۸۷ء)۔ناظمین اعلیٰ ملک کے اسماء درج ذیل ہیں۔مکرم عزیز تیجو صاحب مکرم مبارک رمضان صاحب مجالس اور ان کے زعماء ۸۲-۱۹۸۱ء ٨٦-١٩٨٣ء مجالس اور ان کے زعماء کے نام حسب ذیل ہیں : پروزال: مکرم مبارک رمضان صاحب (۸۳-۱۹۸۲ء)، مکرم حنیف جواہر صاحب (۸۵-۱۹۸۴ء)، فنکس : مکرم ابوطالب کالو صاحب ( ۸۲-۱۹۸۱ء ) ، مکرم احمد سلطان غوث صاحب (۸۵-۱۹۸۳ء)، مکرم رشاد ہولاش صاحب (۱۹۸۶ء۔) سنیٹ پری: مکرم حمید زیاد علی صاحب (۸۵-۱۹۷۷ء)، مکرم اعظم بگھیلو صاحب (۱۹۸۶ء)