تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 951
۹۵۱ فرمائے اور نہایت کامیاب تبلیغ کی توفیق بخشے۔اللهم زدفرد مقابله پیدل سفر و جنوری ۱۹۸۶ء کو VIRGINIA WATA کچھیل کے اردگر دساڑھے تیرہ میل پیدل سفر کا مقابلہ انصار میں ہوا۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی از راه شفقت اس موقعہ پر تشریف لائے اور کار میں جھیل کا چکر لگا کر انصار کو مقابلہ کرتے ہوئے ملاحظہ فرمایا۔نماز عشاء کے بعد مجلس عرفان سے قبل حضور نے انصار میں انعامات تقسیم فرمائے۔اس مقابلہ میں تقریباً چالیس انصار نے حصہ لیا۔1 برمنگھم کاٹور انصاراللہ لندن پر مشتمل ایک ٹور کوچ لندن سے برمنگھم گئی۔راستہ میں آکسفورڈ میں BALLIOL کالج دیکھا جہاں حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثالث) تعلیم حاصل فرماتے رہے تھے۔مشن ہاؤس برمنگھم میں انصار سے ملاقات ہوئی جنہوں نے کھانا پیش کیا۔بعد ہ مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہد نے خطاب فرمایا۔وہاں سے واپسی STRATFORT UPON AVON کے راستہ سے ہوئی جہاں شیکسپئیر کا گھر دیکھا۔وہاں لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔(1) مکرم چوہدری ہدایت اللہ صاحب بنگوی کے اعزاز میں الوداعی تقریب مکرم چوہدری ہدایت اللہ صاحب بنگوی سابق ناظم اعلیٰ کے اعزاز میں مجلس عاملہ انصار اللہ انگلستان نے ۱۹مئی ۱۹۸۵ء بروز اتوار نصرت ہال (مسجد فضل لندن) میں الوداعی تقریب منعقد کی جس میں سیدنا حضرت خلیفہ اصیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی شرکت فرمائی۔تلاوت قرآن کریم کے بعد جملہ حاضرین کرام نے حضور کی اقتداء میں انصار اللہ کا عہد دہرایا۔اس کے بعد نئے ناظم اعلی مکرم خواجہ رشید الدین صاحب قمر نے مکرم چوہدری ہدایت اللہ صاحب بنگوی کو سپاسنامہ پیش کیا اور ان کی خدمات کو سراہا۔بعد ازاں مکرم بنگوی صاحب نے سپاسنامہ کا جواب دیا۔اس کے بعد حضور نے مختصر خطاب کرتے ہوئے فرمایا: الوداع ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اب کام ختم ہو گیا بلکہ ہر حال میں خدمت سلسلہ کی جاسکتی ہے اور دوبارہ اسی خدمت پر انسان مامور ہو سکتا ہے۔پہلے عہد یدار کام کو ایک لیول (LEVEL) تک پہنچاتے ہیں اور پھر بعد میں آنے والے اس لیول (LEVEL ) کو آگے بڑھاتے ہیں اور ایک بلند مقام تک لے جاتے ہیں اور اسی طرح پر کام ہمیشہ ترقی کی جانب رواں دواں رہتا ہے۔" حضور نے مکرم بنگوی صاحب کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے آپ کی خدمات کو سراہا اور دعا کرائی۔(۱۳)