تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 832
۸۳۲ سالانہ تربیتی کلاس تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ اس کلاس کا آغاز مورخہ ۱۶ اکتوبر ۱۹۸۶ء کو ساڑھے چار بجے شام مکرم ملک حمید اللہ صاحب امیر حلقہ کی زیر صدارت ہوا۔صدرا جلاس کی افتتاحی تقریر کے علاوہ مکرم منشی سلطان احمد صاحب اور مکرم سید اعجاز احمد صاحب نے تقاریر کیں۔اس اجلاس میں پچپن انصار سمیت ایک سوتین افراد شامل ہوئے۔دوسرا اجلاس شام سات بجے ہوا۔مرکزی نمائندہ مکرم ملک محمد عبداللہ صاحب نے تقریر کی۔مہمانِ خصوصی مکرم مولا نا محمد اسماعیل صاحب منیر نے جائزہ داعیان لیا اور سلائیڈ ز دکھا ئیں جن میں خانہ کعبہ، قادیان اور ربوہ نیز افریقن ممالک کے نظارے دکھائے گئے تھے۔اگلے روز نماز تہجد اور نماز فجر کے بعد درس قرآن ہوا۔تیسرے اجلاس میں جو مکرم محمد عبداللہ صاحب مرکزی نمائندہ کی صدارت میں ہوا۔مکرم مبارک احمد صاحب مربی سیرالیون اور مکرم عبدالوہاب صاحب مربی تنزانیہ نے میدانِ عمل میں پیش آنے والے تبلیغی واقعات سنائے۔مقامی مربی منصور احمد صاحب نے ختم نبوت پر خطاب کیا۔بعد ازاں صاحب صدر نے بعض دلچسپ واقعات سنائے۔سوا گیارہ بجے کلاس ختم ہوئی۔اجتماع ضلع اوکاڑہ ۱۶ اکتوبر ۱۹۸۶ء کو مکرم مولوی سید احمد علی شاہ صاحب نے اس اجتماع میں شرکت کی۔پہلے خواتین سے خطاب فرمایا پھر سنتو کھ داس میں رات کو خطاب فرمایا۔اگلے روز نماز تہجد و فجر اور درس کا انتظام کیا گیا۔مرکز سے مکرم مولا نا غلام باری سیف صاحب اور مکرم چوہدری محمد ابراہیم صاحب بھی پہنچ گئے۔مورخہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۸۶ء کو اجتماع سے مکرم مولانا غلام باری سیف صاحب ، مکرم چوہدری محمد ابراہیم صاحب اور مکرم ہدایت اللہ صاحب انڈونیشین طالبعلم جامعہ احمدیہ نے خطاب فرمایا۔عہدیداران کی میٹنگ کا بھی انعقاد کیا گیا۔حاضری دوسو احباب رہی۔اسی اجلاس میں مربیان سلسلہ مکرم محمد یوسف سجاد صاحب اور مکرم مولانا عبد السلام طاہر صاحب نے رسول کریم بحیثیت داعی الی اللہ کے اور جماعت احمدیہ کا مستقبل کے عناوین پر تقاریر کیں۔گیارہ بجے ورزشی مقابلے ہوئے۔طعام اور نماز جمعہ و عصر کے بعد سوا دو بجے دوسرا اجلاس زیر صدارت مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نائب صدر مجلس ہوا۔مکرم بشیر الدین صاحب اور مکرم چوہدری صاحب موصوف نے تقاریر کیں۔مجلس سوال و جواب ساڑھے تین بجے شروع ہوئی جس میں مکرم چوہدری صاحب ، مکرم بشیر الدین صاحب اور مکرم مولوی محمد یوسف سجاد صاحب نے جوابات دیئے۔اس کے بعد مکرم نذیر احمد رشید صاحب ناظم اعلیٰ نے رپورٹ پڑھی۔تقسیم انعامات کے بعد مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے نظم سنائی اور اختتامی تقریر کے بعد دعا کروائی۔اجتماع میں پونے دو سو انصار حاضر تھے نیز آٹھ غیر از جماعت احباب بھی شامل ہوئے۔