تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 820
۸۲۰ جائزہ لیا گیا اور ضروری ہدایات دی گئیں خاص طور پر نماز با جماعت کی ادائیگی۔زعماء مجالس سے لائحہ عمل طے کر کے اُس پر عملدرآمد کا نقشہ تیار کیا گیا۔اصلاح وارشاد کے شعبہ میں مجالس سوال و جواب کے انعقاد تعلیمی کلاسز کی ضرورت اور تحریک جدید کے مالی جہاد میں تمام افراد جماعت کو شامل کرنے کے لئے منظم کوشش کی طرف متوجہ کیا گیا۔محبت، پیار، نرمی لیکن مستقل مزاجی کے ساتھ اصلاح اور تربیت کا کام کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی۔اپنے روحانی رابطہ کو مضبوط رکھنے اور حضور کی خدمت میں متواتر خطوط تحریر کرتے رہنے اور حضور کی آواز سے نئی نسل کو مانوس کرنے کی تلقین کی گئی۔تربیتی اجلاس بھلوال ضلع سرگودھا مورخه ۱۴ فروری ۱۹۸۶ء کو مرکزی و فد مکرم مولوی محمد اسماعیل منیر صاحب کی قیادت میں بھلوال ضلع سرگودھا پہنچا۔وفد میں مکرم ملک محمد عبد اللہ صاحب اور مکرم صو بیدار صلاح الدین صاحب شامل تھے۔اجلاس میں مکرم چوہدری محمد اسلم صاحب باجوہ نگران حلقه و نائب ناظم مجالس ضلع ، صدر جماعت احمد یہ بھلوال ، مکرم ملک محمد حیات صاحب رکھ چراہ گاہ ، مکرم چوہدری منظور احمد صاحب تخت ہزارہ ، مکرم محمد صدیق شمس صاحب بھابڑہ ، مکرم ملک مبارک احمد صاحب بھیرہ اور مکرم عزیز صاحب گھوگھیاٹ شریک ہوئے۔اصلاح وارشاد کے کام میں تیزی پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی۔پیسٹس کا جائزہ لیا گیا۔بزم ارشاد اور مجالس سوال و جواب پر زور دیا گیا اور وقف جدید کے لئے واقفین کی تحریک کی گئی۔خطبہ جمعہ مکرم مولوی محمد اسماعیل منیر صاحب نے دیا۔نماز جمعہ میں بارہ انصار، بارہ خدام، پندرہ اطفال شریک ہوئے۔تربیتی دورہ ضلع سیالکوٹ مورخه ۱۴ فروری ۱۹۸۶ء کو مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب اور مکرم محمد اسلم شاد منگلا صاحب نے سیالکوٹ شہر میں مرکزی نمائندگان کی حیثیت سے شمولیت کی۔ایک سو اٹھارہ مجالس میں سے پچاس مجالس کے نمائندے حاضر ہوئے۔بارش کی وجہ سے حاضری کم تھی۔مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے تعلیم ، اصلاح وارشاد اور تحریک جدید جبکہ مکرم منگلا صاحب نے تربیت تجنید اور عمومی کی ہدایات دیں۔مجموعی جائزہ سے معلوم ہوا کہ حضور کے خطبات کے کیسٹ بڑی کثرت سے سنے اور سنائے جاتے ہیں۔صرف شکر گڑھ اور بھرو کے کلاں میں کیٹیں نہ ملنے کی شکایت تھی جسے ناظم صاحب ضلع نے دور کرنے کا اہتمام کیا۔تین مقامات پر لائبریریاں ہیں۔سیالکوٹ شہر، نارووال اور ظفر وال۔داعی الی اللہ اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں۔ان کی مساعی مجلس میں سنی گئیں۔متعدد ایمان افروز واقعات تھے جو دوسروں کے لئے تحریکات کا باعث بھی ہوئے۔حاضرین کے علاقوں میں ماہ جنوری میں گیارہ بیعتیں ہوئیں۔مالی جائزہ پیش کر کے ہدایات دی گئیں کہ واپس جا کر اپنے اپنے علاقہ میں نہ صرف شعبہ مال بلکہ جس جس شعبہ میں کمی ہے ، دور کر کے پوری کروائیں۔