تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 818 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 818

ΔΙΑ تحریک کی اور انصار بھائیوں کو بتایا کہ خالصتاً یہ ان کی ذمہ داری ہے۔یہاں حاضری ایک سو پینتالیس احمدی احباب اور نوے غیر از جماعت احباب تھی۔دوسرا اجلاس زیر صدارت مکرم مولا نا مبشر احمد کاہلوں صاحب ہوا۔مولوی منظور احمد چینوٹی نے ایک تقریر مورخہ ۲۶ دسمبر ۱۹۸۵ء کو عنایت پور بھٹیاں میں کی تھی جس میں جماعت کے خلاف اعتراضات اٹھائے تھے ، ان کے جوابات مکرم کا ہلوں صاحب نے دیئے۔اجلاس میں احباب جماعت کے علاوہ متعدد غیر از جماعت احباب نے بھی شرکت کی۔غیر از جماعت امام مسجد عنایت پور بھٹیاں بھی شریک ہوئے۔یہ اجلاس تقریباً ایک بجے شب ختم ہوا۔امام مسجد صاحب تو اپنے مخصوص مقصد لئے شریک مجلس ہوئے کیونکہ ۳ جنوری ۱۹۸۶ء کو صبح بعد نماز فجر انہوں نے ان جوابات کے خلاف درس دیا۔لیکن دیگر غیر از جماعت احباب مولوی منظور احمد چینوٹی کے طرز تخاطب سے متنفر ہو کر شریک مجلس ہوئے جس کا انہوں نے بر ملا اظہار نجی مجالس میں کیا۔تیسرے اجلاس میں جو ڈیرہ مکرم رائے اللہ بخش بھٹی صاحب پر ہوا ، حاضری احمدی احباب پچاس اور غیر از جماعت پچاس تھی جنہوں نے نہایت ہی نظم و ضبط اور پر سکون طریقہ سے شرکت کی۔یہ اجلاس تربیتی رنگ میں ہوا۔مورخه ۳ جنوری ۱۹۸۶ء تقریباً بارہ بجے جل بھٹیاں کو وفد پہنچا۔سوال جواب کی مجلس ہونی تھی اس لئے مکرم رشید احمد زیر وی صاحب نے تقریر کی بجائے انتظامیہ کے ساتھ میٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔اس میٹنگ میں ملک شمشیر صاحب نگران حلقه (جھنگ)، مکرم ناصر احمد صاحب (صدر جل بھٹیاں ) ، مکرم امتیاز احمد صاحب، مکرم محمد رفیق صاحب سیکرٹری مال، مکرم جہان خان صاحب زعیم انصار اللہ شریک ہوئے۔احباب سے تحریک جدید کے وعدہ جات کو بڑھا کر سو فیصد تک لے جانے کی کوشش کرنے کی درخواست کی اور صبر و حمل ، استقلال اور دعا کے ساتھ کام کرنے کی تلقین کی۔ضلعی میٹنگ لاہور ۱۳ جنوری ۱۹۸۶ء کو مکرم کرنل دلدار احمد صاحب ناظم ضلع لاہور نے ضلعی مجالس عاملہ اور تمام زعمائے اعلیٰ لاہور کی میٹنگ کا انتظام کیا۔یہ اجلاس خصوصی طور پر قیام نماز کے سلسلہ میں منعقد کیا گیا۔اجتماع کھوکھر غربی ضلع گجرات مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۸۶ء کونماز تہجد و فجر کے بعد درس قرآن مجید ہوا۔اس کے بعد مکرم رفیق احمد شاہ صاحب ناظم ضلع نے نماز با جماعت کی اہمیت پر تقریر کی۔پہلے اجلاس کی حاضری پینتالیس تھی۔دوسرا اجلاس پونے بارہ بجے شروع ہوا۔تلاوت و نظم کے بعد مکرم نصیر الدین بھٹی صاحب نے دعوت الی اللہ کے موضوع پر تقریر کی۔حاضری نوے رہی۔تینتالیس مستورات اس کے علاوہ تھیں۔