تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 57
۵۷ واضح کر رہی ہے کہ مسجد بشارت کی تعمیر کی جو تاریخ ساز سعادت ہمیں نصیب ہوئی یہ محض ہمارے رب کی رحمانیت اور رحیمیت کے طفیل ہے۔اُسی نے ہمیں اس مہم کا آغاز کرنے کی توفیق بخشی اور اس نے تکمیل کے مراحل تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائی یعنی جو کچھ بھی ہم نے کیا محض اس کی رحمانیت اور رحیمیت کے عظیم جلووں کے تابع کیا۔اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک ایسا مضمون بھی سمجھایا جس کا میں اب یہاں اعلان کرنا چاہتا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ اللہ کے گھر بنانے کے شکرانہ کے طور پر خدا کے غریب بندوں کے گھروں کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے۔اس طرح یہ حمد کی عملی شکل ہوگی جو ہم اختیار کریں گے اور اپنے اعمال سے گواہی دیں گے کہ ہاں واقعتہ ہم اللہ کی رضا پر بہت راضی ہیں کہ اس نے ہمیں اپنا گھر بنانے کی توفیق بخشی۔پس ہم اس غریب بندوں کے گھروں کی تعمیر کی طرف توجہ کر کے اس کے اس عظیم احسان کا عملی اظہار کریں گے۔اس شکل میں جب میں نے غور کیا تو میرے دل میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ سب سے پہلے اس مقصد کے لئے میں خود نموری کچھ پیش کروں گا غریبوں کے گھر بنانے کے لیے ایک فنڈ قائم کیا جائے۔سب سے پہلے تو میں اپنی طرف سے دس ہزار روپیہ کی ایک حقیر سی رقم اس مد میں پیش کرتا ہوں اور ساتھ ہی صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے دولاکھ روپے اس مد میں پیش کرتا ہوں۔انجمن کی جو بچت ہوتی ہے اس کا اکثر استعمال تعمیرات پر ہوتا ہے۔تو ان تعمیرات کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں جو ر قمیں عطا فرمائی ہیں اس کے شکرانے کا بھی یہ ایک اظہار ہوگا کہ اس میں دولاکھ روپے غرباء کی عمارات کے لئے ، ان کی مدد کے لیے وقف ہوگا اور انشاء اللہ تعالیٰ سال بہ سال اس کی جو شکلیں بنیں گی وہ ہمارے سامنے آتی چلی جائیں گی۔۲۳ تحریک جدید اور وقف جدید اور خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کے مالی حالات اس وقت میرے سامنے نہیں ہیں لیکن ان کو بھی میں تحریک کرتا ہوں کہ یہ انجمنیں اور نظیمیں اپنی توفیق کے مطابق کچھ نہ کچھ ضرور اس مد میں وقف کریں۔اس ارشاد کی تعمیل میں مجلس انصاراللہ مرکزیہ کی طرف سے ۲۹ اکتو بر ۱۹۸۲ء کو میں ہزار روپے اور ۲۷ اپریل ۱۹۸۷ء کو ایک لاکھ روپے سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔سکیم مکانات مستحقین نومبر ۱۹۸۲ء میں حضرت خلیفہ امسیح الرابع کی جاری فرمودہ مکانات مستحقین کی سکیم کے سلسلہ میں جو کمیٹی مقرر کی گئی اُس میں مجلس انصاراللہ مرکزیہ کی نمائندگی کی سعادت مکرم ڈاکٹر لطیف احمد صاحب قریشی کوملی۔"