تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 774 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 774

۷۷۴ رہے اور آپ اُن خزائن کی نشاندہی فرماتے رہیں جس کی طرف حضرت سلطان القلم ہر سعید روح کو بلا رہے ہیں۔مکرمه سیده نیم سعید صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ لاہور : ماشاء اللہ ہر رسالہ انصار اللہ با قاعدہ پڑھنے کی توفیق ملتی ہے۔جس کے اداریے ، حضور کی کتب میں سے انتخاب اقتباسات اور باقی مضامین سب ہی عمدہ اور زمانے کی ضرورت کے مطابق ہوتے ہیں۔جون کو خصوصی اشاعت اسلامی اصول کی فلاسفی نمبر ملا۔بہت اعلیٰ مضامین ہیں۔ادار یہ بھی بہت اچھا ہے۔خدا تعالیٰ سلطان القلم کے روحانی فیض اور قوت قدسیہ سے سب ہی لکھنے والوں کو وافر حصہ عطا فرمائے۔آمین مکرم ملک محمد اعظم صاحب منتظم اشاعت مجلس ربوہ ونائب قائد تعلیم انصار اللہ پاکستان : ماہنامہ انصار اللہ ماہ جون ۹۶ ء کا خصوصی اشاعت کا شمارہ بڑی دلچسپی اور لگن سے مطالعہ کیا۔حقیقت ہے بہت لطف آیا۔بہت مفید اور بہت معلوماتی اور علمی نمبر ہے۔خصوصاً آپ کا اچھوتا ادار یہ اور اسلامی اصول کی فلاسفی سے اہم نکات نکال کر علم کے موتیوں کے ڈھیر لگا دیئے ہیں۔۔۔۔آپ نے حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کے جو مشاہدے اور تاثرات دیئے ہیں واقعتاً ایمان افروز ہیں۔اسی طرح مکرم عبدالسمیع خان صاحب نے کسوف خسوف کے معجزہ کو اس عظیم المرتبت مضمون کے نشان سے ملا کر جو نتیجہ نکالا ہے وہ بھی بڑا ایمان افروز اور دلچسپ ہے۔پھر آپ نے مضمون پر غیروں کے تبصروں کو یکجا کر کے محنت کا حق ادا کر دیا ہے۔بہر کیف یہ عمدہ نمبر آپ کی محنت اور کاوش کا بہترین علمی کارنامہ ہے۔میں دل کی گہرائی سے آپ کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔﴿۲﴾ توسیع اشاعت ماہنامہ انصار اللہ کا آغاز حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے زمانہ صدارت میں ۱۹۶۰ء میں ہوا تھا۔اس ماہنامہ کے اجراء کے وقت صدر مجلس نے جو پالیسی وضع فرمائی تھی ماہنامہ انہی لائنوں پر عمل پیرا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس رسالہ نے اپنی علمی اور تربیتی ذمہ داری کو احسن رنگ میں پورا کیا اور آئندہ کے لئے اس کوشش میں رواں دواں ہے۔اس رسالہ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کوئی اشتہار شائع نہیں کیا جاتا۔اشتہارات کو عام طور پر رسائل کا ایک بہت بڑا ذریعہ آمدنی سمجھا جاتا ہے۔محترم صدر صاحب کے نزدیک خالص دینی مطالعہ کے دوران اچانک کسی دنیا وی اشتہار پر نظر توجہ کو ہٹانے کے مترادف تھی۔بعد میں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت صاحبزادہ صاحب کو منصب خلافت پر فائز فرمایا تو آپ کی خدمت میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کی خاطر دوسرے جماعتی رسائل کی طرح ماہنامہ انصاراللہ میں بھی اشتہارات شائع کرنے کی اجازت عطا فرمائی جائے تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اپنے دست مبارک سے تحریر فر مایا ہر گز نہیں“