تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 743 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 743

۷۴۳ مجلس انصار اللہ کا مالی نظام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد مبارک کی تعمیل میں جماعتی مالی نظام جن بنیادوں پر قائم ہے مجلس انصار اللہ کا مالی نظام بھی انہی خطوط پر استوار ہے۔کسی تنظیم کا بجٹ اس امر کا آئینہ دار ہوتا ہے کہ اس میں زندگی کی روح اور ترقی کی صلاحیت کس قدر موجود ہے۔الحمد للہ کہ انصاراللہ کا ہر نیا سال یہ واضح کرتا ہے کہ یہ تنظیم مالی اعتبار سے وسعت پذیر ہے، سال بہ سال مضبوط سے مضبوط ہو رہی ہے اور اس کے کاموں میں پختگی روز افزوں ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے موافق خلافت کی برکت سے اس تنظیم کو بھی مالی فراخی عطا فرمائی۔ایک سرسری سا جائزہ لینے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ہر سال بجٹ میں بفضل ایزدی اضافہ ہوتا گیا اور اس طرح اس کا مالی نظام دن بدن مستحکم ہوتا چلا جا رہا ہے۔اس حقیقت کی تصدیق مجلس کے آمد وخرچ کے گوشوارہ سے ہوتی ہے۔مجلس شوریٰ میں پیش کئے جانے والے بجٹ میں جہاں ہر سال تدریجی اضافہ تجویز کیا جاتا رہا۔وہاں اراکین نے بھی قربانیوں میں اپنا قدم مسلسل آگے رکھا اور نحن انصار اللہ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے مجوزہ بجٹ سے بہت زیادہ رقم خدا کے حضور پیش کرنے کی توفیق پائی۔چنانچہ مجلس کا پہلا بجٹ ( ۴۵ - ۱۹۴۴ء ) جو صرف ایک ہزار آٹھ سوروپے پر مشتمل تھا ، ۱۹۸۲ء میں بڑھ کر چھ لاکھ سترہ ہزار روپے ہو گیا جبکہ آمد بفضل تعالیٰ آٹھ لاکھ انچاس ہزار اور ۱۹۹۹ء میں اٹھاسی لاکھ ستائیس ہزار چارسوروپے سے تجاوز کر گئی۔قبل اس کے کہ مجوزہ بجٹ اور اصل آمد و خرچ کے تفصیلی گوشوارے پیش کئے جائیں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بجٹ کے بعض اہم نکات کا سال وار جائزہ بھی پیش کر دیا جائے۔بجٹ کے خصوصی نکات ۱۹۸۲ء: مدعملہ میں مجالس بیرون کے لیے ایک نئی اسامی کلرک CUM ٹائپسٹ رکھی گئی۔عملہ ماہنامہ انصار اللہ کی تنخواہ اور الاؤنس وغیرہ بھی مد عملہ مرکزیہ سے ادا کئے گئے۔۱۹۸۳ء : اصلاح وارشاد کے کام میں وسعت کے پیش نظر ایک گاڑی خریدی گئی۔اسکے کے لیے نئی اسامی ڈرائیور کی تجویز کی گئی۔