تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 578
۵۷۸ کو وظائف دیئے۔محترم پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کا شمار دنیا کے نامور اور شہرہ آفاق سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔آپ نے ۱۹۷۹ء میں فزکس میں نوبل انعام حاصل کیا۔آپ کو مجلس عاملہ انصار اللہ مرکزیہ کے رُکن خصوصی ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔آپ کی وفات پر مجلس عاملہ انصار اللہ پاکستان نے مندرجہ ذیل قرارداد منظور کی : ۲۴) قرار داد تعزیت ” خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا اور میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور نشانوں کی رو سے سب کا منہ بند کر دیں گے۔“ ( تجلیات الہیہ ) سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس عظیم الشان پیشگوئی کے ایک نمایاں مصداق محترم المقام پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب دین و دنیا کے لحاظ سے ایک انتہائی خوش نصیب شخصیت تھے۔نابغہ روزگار، انسانیت کے سچے خادم تھے۔حضرت چوہدری محمد حسین صاحب کے مخلص احمدی گھرانہ کی پاکیزہ فضا میں آنکھیں کھول کر یہ قابل فخر سپوت ابتدائی کلاسز سے ایم اے تک اوّل پوزیشن کے ساتھ کامرانیوں کی منزلیں طے کرتا ہوا اپنے عروج کی طرف بڑھتا چلا گیا۔کیمبرج یونیورسٹی کا علمی کو رس مختصر عرصہ میں مکمل کر کے میدان علوم و سائنس میں آپ ایک نشان بنتے گئے۔بے شمار بین الاقوامی انعامات اور ایوارڈز حاصل کرتے ہوئے آپ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر خوب سے خوب تر کی مثال بنتے گئے۔چھتیں یو نیورسٹیوں کی طرف سے ڈگریاں ، اعزازات اور ایوارڈز حاصل کئے۔چوبیس اکیڈیمیز اور سوسائیٹیوں کے منتخب فیلو بنے۔تیسری دنیا کے لئے تو آپ کا وجود سائنسی علوم کے احیاء کو کا ذریعہ ثابت ہوا۔آپ کے قائم کردہ ادارہ سے تیسری دنیا کے ہزاروں سائنسدان فیضیاب ہوئے۔فزکس میں نوبل انعام آپ کی خدا داد اور غیر معمولی قابلیت کا عظیم اعتراف ہے۔سینکڑوں مقالات اور تصانیف آپ کی دائمی یاد ہیں۔محترم پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی وفات جماعت احمدیہ، ملک وقوم اور انسانیت کے لئے ایک غیر معمولی صدمہ ہے۔ہماری دعا ہے کہ خدا وند کریم و قادر اپنے کرم و قدرت سے اس خلاء کو پُر فرمائے۔مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں ارفع مقام سے نوازے اور آپ کے جملہ اہل وعیال اور عزیز واقارب کو صبر جمیل بخشے۔آمین مجلس انصاراللہ پاکستان اس صدمہ پر سید نا حضرت خلیفة اسم الرابع ید اللہ تعالی، آپ کی ہر دواہلیہ، بچگان، بہن بھائیوں اور عالمگیر جماعت احمدیہ سے تعزیت کا اظہار کرتی ہے (۲۵)