تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 549 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 549

۵۴۹ کو بھی اس موضوع پر اظہار خیال کی دعوت دی جائے۔( ج ) ہر ناصر اپنے زیر دعوت دوستوں میں سے دس دس کو اس جلسہ میں شریک کرے۔(د) جلسہ کے بعد سوال و جواب کی مجلس ہو اور مہمانوں کی مناسب تواضع کی جائے۔۲۸ جنوری بروز جمعہ : (۱) آج کی نماز تہجد اور فجر میں زیر دعوت احباب کے لئے نام لے کر خصوصی دعائیں کی جائیں۔(ب) درخواست کی جائے کہ خطبہ جمعہ میں موضوع دعوت الی اللہ اور موجودہ ٹارگٹ رکھا جائے۔( ج ) ڈش سنٹر پر زیادہ مہمانوں کو لانے کے لئے داعیان کے نام حضور انور کی خدمت میں بغرض دعا بھجوائیں۔۲۹ جنوری بروز ہفتہ: (۱) نماز فجر کے بعد درس سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ۱۰۳ تا ۱۸۰ کا دیا جائے۔( ب ) ٹارگٹ کا نصف حاصل کرنے کے لئے اپنی رفتار کا جائزہ لیا جائے اور کوشش کی جائے کہ ان آخری دو دنوں میں تمام انصار کو پھل مل جائیں۔(ج) پھل حاصل کرنے والے دوستوں کی اسم وار فہرست حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو بھجوائی جائے۔(د) نماز مغرب کے بعد ملفوظات میں سے دعوت الی اللہ کے اقتباسات سنائے جائیں۔۳۰ جنوری بروز اتوار: (۱) درس فجر کے بعد سورۃ نصر کا۔تفسیر کبیر جلد دهم صفحه ۴ ۴۸ تا ۴۹۴ ( ب ) ہر داعی اس روز کم از کم ایک پھل حاصل کرے۔سٹینڈنگ کمیٹی برائے رشتہ ناطہ انٹرنیشنل مجلس شوری ۱۹۹۳ء منعقدہ یو کے میں ایک تجویز رشتہ ناطہ کے مسائل کے بارہ میں پیش ہوئی تھی۔اس تجویز پر فیصلہ ہوا کہ ایک سٹینڈنگ کمیٹی مقرر کر دی جائے جو ان مسائل پر غور کر کے اپنی سفارشات پیش کرے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے ارشاد فرمایا کہ اس کمیٹی میں ذیلی تنظیموں کا ایک ایک نمائندہ بھی شامل کر لیا جائے۔مکرم وکیل الا علی تحریک جدید نے حضور کے اس ارشاد سے (۱ جنوری ۱۹۹۴ء کو مطلع کرتے ہوئے مجلس کا نمائندہ مقرر کرنے کی درخواست کی۔صدر محترم نے مکرم پر و فیسر عبدالرشید غنی صاحب قائد مال کو نمائندہ مقرر کیا۔ناظمین اضلاع و زعمائے اعلیٰ کی میٹنگ ناظمین اضلاع و زعمائے اعلیٰ کی میٹنگ ۴ فروری ۱۹۹۴ء کو منعقد ہوئی۔صدر مجلس مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب نے صدارت کی۔اس اجلاس میں مرکزی قائدین نے اپنے اپنے شعبہ جات کی ہدایات دیں۔صدر محترم نے اپنے خطاب میں مندرجہ ذیل امور کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔(۱) مقامی عاملہ کے اجلاس منصوبہ بندی اور غور وخوض کے ساتھ منعقد ہوں۔(۲) ضلعی سالانہ اجتماعات کے علاوہ تربیتی جلسے بھی منعقد ہوں۔(۳) قیام نماز ، روزه ، تلاوت اور صدقات پر خاص توجہ ہو۔(۴) حقیقی داعیان کی تعداد کو بڑھا ئیں اور اپنے تعلقات وسیع کریں۔جتنی محنت ہو رہی ہے جتنا خرچ ہو رہا ہے، اتنا فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔زیارت مرکز پر زور دیں۔دعوت الی اللہ کے کام اور اس کے نتائج کے