تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 523 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 523

۵۲۳ مرکزی نمائندہ: مکرم مولا نا دین محمد صاحب شاہد ررپورٹ : خطبہ جمعہ: مرکزی نمائندہ نے خطبہ جمعہ میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود کی بعثت کے مقاصد بیان کئے اور انہیں اختیار کرنے کی تلقین کی۔کل حاضری چھ سو تھی۔مجلس سوال و جواب : مرکزی نمائندہ نے احمدیت کا تعارف پیش کیا۔بنیادی عقائد کا ذکر کیا اور غلبہ دین کے سلسلہ میں جماعت احمدیہ کی ایمان افروز خدمات کا ذکر کیا اور احباب کو سوالات کا موقعہ دیا۔کل حاضری ایک سو پچاس تھی۔ان میں بارہ مہمان تھے۔تاریخ : ۸ اپریل ۱۹۹۳ء مرکزی نمائندہ: مکرم مولانا محمد اعظم صاحب اکسیر مقام: لاہور کینٹ تقرر پورٹ: مذاکرہ مجلس مذاکرہ میں شرکت کی جس میں حاضری غیر از جماعت آٹھ ، احمدی دس تھی۔تاریخ: ۱۹اپریل ۱۹۹۳ء مرکزی نمائندہ: مکرم مولا نا محمد اعظم صاحب اکسیر مقام: دہلی گیٹ لاہور مختصر رپورٹ : خطبہ جمعہ : آپ نے جمعہ پڑھایا۔حاضری قریباستر تھی۔تاریخ: ۱۹ اپریل ۱۹۹۳ء مقام: سلطان پورہ لاہور مرکزی نمائندہ: مکرم مولا نا محمد اعظم صاحب اکسیر مختصر رپورٹ : مجلس مذاکرہ: بعد نماز عشاء مجلس مذاکرہ سے خطاب کیا۔حاضری صرف احمدی پینتالیس تھی۔مقام: مانگٹ اونچہ ضلع گوجرانوالہ تاریخ: ۱۱۵اپریل ۱۹۹۳ء مرکزی نمائندہ: مکرم محمد اسلم صاحب شاد، مکرم مولانا محمد اعظم صاحب اکسیر مختصر رپورٹ : اجلاس عام : بعد نماز عشاء اجلاس عام میں مکرم مولا نا محمد اعظم صاحب اکسیر نے تقریر کی۔اس کے بعد مکرم محمد اسلم صاحب شاد نے اپنی تقریر میں تربیت اولاد، قیام نماز، ڈش انٹینا میں سو فیصد حاضری اور بچوں کو خاص طور پر ساتھ لانے کی طرف توجہ دلائی۔اس کے بعد سوال و جواب بھی ہوئے۔حاضری انصار سولہ، خدام سولہ، اطفال آٹھ ، لجنہ بتیس کل اکہتر تھی۔میٹنگ زعماء: بروز جمعہ گیارہ بجے قبل دو پہر حلقہ زعماء کی میٹنگ ہوئی جس میں مکرم محمد اسلم صاحب شاد نے مجلس کے لائحہ عمل اور شعبہ جات کے کام، ماہانہ رپورٹ کی اہمیت، شعبہ تربیت تعلیم اور عمومی کے بارہ میں اور مکرم مولا نا محمد اعظم صاحب اکسیر نے شعبہ تعلیم القرآن اور شعبہ اصلاح وارشاد کے بارے میں تفصیل سے جائزہ لیا اور ہدایات دیں۔حاضری زعماء آٹھ ،نگران حلقہ ایک۔نماز جمعہ نماز جمعہ مکرم مولانا محمد اکسیر صاحب نے پڑھائی۔خطبہ میں انہوں نے تربیت اولا داور دعا کی طرف خصوصی توجہ دلائی۔نیز ڈش انٹینا سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی تلقین کی۔حاضری مردسو، خواتین اکہتر تھی۔