تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 508
۵۰۸ - (1) بنیادی DATA تیار ہونا چاہئیے کہ کتنی مجالس میں نئے احمدی ہیں اور ان مجالس کے ماحول میں کتنے مقامات میں ہیں۔(۲) تعداد کیا ہے؟ کس گروپ کے لئے کونسا سنٹر بنتا ہے۔مربیان کن مقامات پر ہیں۔(۳) مردوں کے اجلاسات پیشگی اطلاع دے کر رکھے جائیں۔(۴) نصاب کے لئے جن کتب کی ضرورت ہے ان کی فراہمی کا جائزہ (۵) نئے احمدی نماز جمعہ میں حاضر ہوں۔ان کا اٹھنا بیٹھنا احمدیوں کے ساتھ ہو۔انہیں گھروں میں بھی دوست بلائیں۔(۶) بچوں کی تعلیم و تربیت: انہیں دینی معلومات، نما ز با ترجمه، قرآن کریم ناظرہ پڑھانے کا انتظام۔(۷) دعا کے بارہ میں جماعت کا تصور ان میں داخل کریں۔(۸) انہیں مجالس کے ضلعی اجتماعات میں شامل کیا جائے۔(۹) نظارت دعوت الی اللہ سے تفصیلی لسٹیں حاصل کی جائیں۔کتابوں کے بارہ میں بھی رابطہ کہ وہ ابتدائی قسط دے دیں۔(۱۰) جہاں زیادہ بیعتیں ہوئی ہیں وہاں زیادہ توجہ دی جائے۔(۱۱) ناظمین اضلاع کو سر کر بھجوایا جائے کہ نو احمدیوں کے ساتھ رابطہ رکھیں اور انہیں اپنی جماعتوں میں شامل کریں۔(۱۲) مرد۔عورتیں اور بچوں کا تناسب بھی نکالا جائے۔(۱۳) مجلس وار بیعتوں کا گوشوارہ تیار کر لیا جائے۔(۱۴) مکرم قائد صاحب اصلاح وارشاد مکمل لسٹیں مکرم قائد صاحب تربیت کو مہیا کریں۔(۱۵) مکرم قائد صاحب اصلاح وارشاد اگلے سال کے ٹارگٹ دینے شروع کریں۔(۱۶) مکرم قائد صاحب تربیت اپنے نائین کی میٹنگ بلائیں۔دوروں کا پروگرام اور تعلیم و تربیت کی سکیم بنالیں۔(۱۷) حضور انور کی خدمت میں تعلیم و تربیت کی رپورٹ بھجوائی جائے۔میڈیکل کیمپس پرا جیکٹ جماعت احمد یہ خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار ہے اور روز اول سے دکھی انسانیت کی ہمددری و غمخواری میں ہمہ تن مصروف ہے۔اسی جذبہ کے تحت طبی امداد کی مفت سہولیات مختلف ذرائع سے عوام تک پہنچائی جاتی رہیں۔۱۹۹۳ء سے میڈیکل کیمپس کے با قاعدہ انعقاد کے ذریعہ مستحقین تک مفت طبی سہولیات پہنچانے کا ایک مستقل سلسلہ جاری ہے جو مجلس شوری ۱۹۹۳ء کی تجویز نمبرا کی حضرت خلیفتہ المسیح الرابع" سے منظوری کے بعد شروع ہوا۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ مجلس مشاورت جماعت احمد یہ پاکستان منعقد ہ۱۹۹۳ء میں یہ تجویز پیش ہوئی کہ پاکستان کے دور افتادہ علاقوں میں علاج معالجہ کی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے افریقہ کی طرز پر ڈسپنسریاں قائم کی جائیں۔اس تجویز پر سب کمیٹی شوری نے حسب ذیل تبصرہ وسفارشات کیں۔یہ تجویز اپنی موجودہ صورت میں نامکمل اور غیر معین ہے اور اس کے کئی ایسے پہلو ہیں جن پر تفصیلی سوچ بچار کی ضرورت ہے تا ہم ممبران کمیٹی نے تجویز کی روح یعنی خدمت خلق کی ضرورت واہمیت پر اتفاق کیا اور اس کی افادیت اور اثر انگیزی کے پیش نظر یہ رائے دی کہ اپنے وسائل کے اندر تمام ممکنہ صورتیں جو علاج