تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 509
۵۰۹ معالجہ کے سلسلہ میں اختیار کی جاسکتی ہیں، انکو سامنے لانا چاہیے۔فی الوقت چونکہ پاکستان میں خدام الاحمدیہ، انصار اللہ ، احمد یہ میڈیکل ایسوسی ایشن نیز مرکزی اور ضلعی انتظام کے تحت فری میڈیکل کیمپس لگائے جاتے ہیں اور مفت علاج فراہم کیا جاتا ہے۔علاوہ ازیں بعض بڑے شہروں میں فری ڈسپنسریاں بھی قائم ہیں اس لیے یہ سفارش کی جاتی ہے کہ: ۱- خدمت خلق جو کام طبی سہولیات کی فراہمی کی موجودہ صورتوں میں رائج ہے ، اس کو مزید وسعت دی جائے اور ضلعی اور مرکزی انتظام کے ماتحت وسائل اور ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ طبی امدادی کیمپ لگائے جائیں۔۲ - اس انتظام کو وسیع اور منتظم اور مربوط کرنے کا معاملہ طویل سوچ بچار اور غور وخوض کا متقاضی ہے اس لیے اس سلسلہ میں ضروریات و تفاصیل اور وسائل دریافت کرنے کے لیے سٹینڈنگ کمیٹی تشکیل دی جائے جو متعلقہ شعبہ جات کے ماہرین پر مشتمل ہو۔یہ کمیٹی اپنی سفارشات مرتب کر کے پیش کرے۔مجلس مشاورت نے متفقہ طور پر سب کمیٹی شوری کی سفارشات منظور کئے جانے کے حق میں رائے دی۔ان سفارشات پر حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے فیصلہ فرمایا۔دو منظور ہے“ ( نوٹ : ان سفارشات کی روشنی میں صدر انجمن احمدیہ نے ایک سٹینڈنگ کمیٹی کرنل ایاز محمود احمد خان صاحب ایڈ منسٹریٹر فضل عمر ہسپتال کی صدارت میں قائم کی جس میں مجلس انصار اللہ پاکستان کی نمائندگی مکرم رفیق احمد صاحب ثاقب نے کی۔اس کا ایک اجلاس ۱۰ / مارچ ۹۴ ء کو ہوا۔ثاقب صاحب نے اب تک انصار اللہ کی طرف سے ہونے والی مساعی اور آئندہ کی سکیم سے ممبران کو آگاہ کیا۔) حضور انور سے منظوری کے بعد صدر صاحب صدر انجمن احمدیہ سے آمدہ چھٹی نمبر ۳۷۸ مورخہ ۱۱ نومبر ۱۹۹۳ء میں تحریر کیا گیا کہ شوریٰ کی سفارش سے صدر صاحب مجلس انصار الله ، صدر صاحب خدام الاحمدیہ، امراء اضلاع ، صدر صاحب میڈیکل ایسوسی ایشن کو مطلع کر کے اس کام کو وسعت دینے کی تحریک کی جائے۔یہ کام نظارت امور عامہ کرے۔اس ہدایت کے فورا بعد نظارت امور عامہ صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے صدر صاحب انصار اللہ کو چٹھی نمبر ۵۷۷۶ مورخه ۲۰ نومبر ۱۹۹۳ء کے ذریعہ میڈیکل کیمپس کے انعقاد کی تفصیلی سکیم بنانے کو کہا گیا اور پاکستان بھر کے احمدی ڈاکٹر ز اور ڈسپنسرز کی ایک ابتدائی فہرست بھی بھجوائی گئی تا کہ یہ کام فوری شروع کیا جا سکے۔محترم صدر صاحب انصار اللہ پاکستان نے مذکورہ بالا چٹھی مکرم قائد صاحب ایثار کو کا روائی اور عملدرآمد کے لئے ارسال کی۔اس کے بعد مرکزی شعبہ ایثار کے تحت فری میڈیکل کیمپس کے انعقاد کا ایک مربوط و منظم نظام شروع کر دیا گیا۔اس تحریک پر انصار اللہ پاکستان نے جس طرح لبیک کہا اس کی کارکردگی کا