تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 24
۲۴ جیسا کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حاشیہ صفحہ ۱۳ فتح اسلام میں رقم فرمایا ہے کہ ” وہ وقت دور نہیں بلکہ بہت قریب ہے کہ جب تم فرشتوں کی فوجیں آسمان سے اترتی اور ایشیا اور یورپ اور امریکہ کے دلوں پر نازل ہوتی دیکھو گے۔یہ تم معلوم کر چکے ہو کہ خلیفہ اللہ کے نزول کے ساتھ فرشتوں کا نازل ہونا ضروری ہے تا کہ دلوں کو حق کی طرف پھیریں سو تم اس نشان کے منتظر رہو۔“ سوا اللہ تعالیٰ نے خلیفہ اللہ کے نائب برحق کے دورہ یورپ کے ایام میں قدم قدم پر فرشتوں کے نزول اور دلوں کی پاک تبدیلی کے مناظر دکھائے۔حضور انور ۲۸ جولائی ۱۹۸۲ ء کو ربوہ سے اس مقدس سفر پر روانہ ہوئے اور ۱۲ اکتوبر ۱۹۸۲ء کو واپس خیر و برکت کے ساتھ ربوہ میں ورود فرما ہوئے۔اڑھائی ماہ کے اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے حضورانور کو ناروے، سویڈن، ڈنمارک، مغربی جرمنی ، آسٹریا ، سوئٹزرلینڈ ، ہالینڈ ، سپین اور انگلستان میں وسیع پیمانے پر حق کی منادی کرنے کی توفیق سعید بخشی۔اس دوران حضور انور کے اعزاز میں ایک درجن کے قریب استقبالیہ تقریبیں منعقد کی گئیں۔دو درجن سے زائد مجالس علم و عرفان کو حضور انور نے علم و عرفان کی روشنی سے منور فرمایا۔جرمنی اور انگلستان کے ممالک میں حضور کے اعزاز میں آٹھ دعوتیں ایسی تھیں جن میں علاقہ کے میئر خود شامل ہوتے رہے بلکہ ان میں سے بعض خود میئرز کی طرف سے منعقد کی گئیں۔اس دورہ میں حضور انور نے اٹھارہ پریس کانفرنسز سے خطاب فرمایا۔علاوہ ازیں حضور انور نے انگلستان میں دونئے مشن ہاؤسز کا ( جناھم اور کرائڈن میں ) افتتاح فرمایا۔نیز زیورک میں ایک معرکۃ الآراء پبلک ٹیچر سے اہل یورپ کو ایک مرتبہ پھر آنے والی تباہی سے خبر دار کر کے اس سے محفوظ رہنے کے لئے اپنے خالق حقیقی کی طرف بلایا اور یہ نکتہ واضح فرمایا کہ ھے حیلے سب جاتے رہے اک حضرت تو اب ہے سیدنا و امامنا ! حضور انور نے ان تمام تقریبات میں بفضلِ خدا بڑے پیاری اور محبت سے تثلیث اور دہریت کی شکار مخلوق کو خالق کائنات کی تو حید اور سرور کائنات حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور فضیلت ذہن نشین کروائی اور مردہ قوموں کو حیات نو کا پیغام دیا اور دنیا نے خلیفہ اللہ کے نائب برحق کی خاطر ملائکہ کا نزول اور دلوں کی پاک تبدیلی کے ایمان افروز نظارے دیکھے۔ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ۔اس با برکت دورہ میں حضور انور نے بیرونی مشہوں کو پہلے سے زیادہ منظم کرنے اور انہیں مزید تقویت پہنچانے کے لئے شوری کا نظام جاری فرمایا اور ہر مشن میں منعقدہ مجلس شوریٰ