تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 430 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 430

۴۳۰ (۲) زعیم انصار اللہ گھر گھر کا سروے کرے کہ وہاں تلاوت ہوئی ہے یا نہیں۔(۳) جن کے بچے غیر احمد یوں کے پاس قرآن کریم پڑھنے جاتے ہیں، ان والدین سے پوچھنا چاہئیے کہ وہ خود ذمہ داریاں کیوں نہیں لیتے اور خود کیوں نہیں پڑھاتے۔مکرم ظفر اقبال صاحب لاہور۔قرآن کریم کی تلاوت کی کیسٹس کا سیٹ ہر حلقہ کو مہیا کیا جائے۔اس کی مدد سے گھر کے افراد صحت کے ساتھ قرآن کریم پڑھنا سیکھیں۔مکرم ملک عبد اللطیف صاحب ستکو ہی لاہور۔(۱) مرکز میں اس غرض کے لئے مستقل ماہرین کا ایک ادارہ قائم کیا جائے۔(۲) جس میں باقاعدہ نصاب مقرر ہوا ور تعلیم کا انتظام کیا جائے۔(۳) انسپکٹر ان مقرر کئے جائیں جو جماعتوں میں سروے کریں۔مکرم جمیل الرحمن رفیق صاحب۔(۱) قرآن کریم کے ترجمہ کے لئے عربی زبان سیکھنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔(۲) صحت کے ساتھ قرآن کریم سکھانے کے لئے کیسٹ کا انتخاب کرتے وقت عربی قاریوں خصوصاً مصری قاریوں کا انتخاب کیا جائے۔(۳) جن کی تلاوت اچھی ہے ان کی لسٹ تیار کی جائے۔ان کو مرکز میں بلا کر جائزہ لیا جائے۔پوری تسلی کر لینے کے بعد پھر انہیں استاد بنایا جائے اور پھر وہ واپس جا کر اپنی جماعت میں کام کریں۔(۴) جن جماعتوں میں کوئی صحت کے ساتھ پڑھانے والا نہ ہو۔وہاں ان کے افراد میں سے کسی کو ٹرینڈ کر کے بھجوایا جائے۔(۵) ایک الگ قیادت برائے تعلیم القرآن قائم کی جائے۔مکرم حافظ محمد اعظم صاحب کراچی۔مجالس کے نمائندے مرکز میں آ کر صحیح تلفظ کے ساتھ قرآن پڑھنا سیکھیں۔ان کے لئے معین نصاب مقرر ہو۔مثلاً ایک پارہ صحیح طور پر پڑھا دیا جائے۔وہ آگے مجالس میں جا کر پڑھا ئیں۔مکرم شریف احمد صاحب کوٹلی آزاد کشمیر۔پہلے اس مقصد کے لئے سروے کیا جائے جہاں زیادہ ضرورت محسوس کی جائے ، پہلے وہاں توجہ دی جائے۔آخر میں محترم صدر صاحب نے بحث کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ (۱) مجلس انصار اللہ نے اپنا کردار ایک رضا کار تنظیم کے طور پر کرنا ہے۔(۲) سروے ہونا چاہئیے کہ اساتذہ کہاں کہاں ہیں۔(۳) سیکھنے والوں کا انتخاب کیا جائے۔(۴) کچھ ROVING اساتذہ مجلس تیار کرے۔(۵) حضور کی نگرانی میں تیار کردہ کیسٹ وہ مجالس کو بھجوائی جائیں۔(۶) عربی زبان سکھانے والا کام مزید غور چاہتا ہے۔اس کے کچھ اسباق طے کرنے کی ضرورت ہے کہ کتنا پڑھانا ہے۔کس حد تک پڑھانا ہے۔حضور کے دو منشاء ہیں۔ایک یہ ہے کہ اتنی عربی آتی ہو کہ تلاوت میں غلطی نہ کرے اور پھر اتنی آجائے کہ خود مطلب سمجھ سکے۔اسے کسی اور ترجمہ پر انحصار نہ کرنا پڑے۔براہ راست مطلب سمجھ سکے۔(۸) پھر حضور نے فرمایا ہے کہ کمیٹیاں مقرر کی جائیں ، وہ مقامی طور پر مقرر ہونی چاہئیں۔(۹) جو اساتذہ مقررہوں ان کے متعلق بھی اطمینان ہونا چاہئیے جیسا کہ مکرم جمیل الرحمن رفیق صاحب نے فرمایا ہے۔