تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 429
۴۲۹ محمد و دشوری مجلس انصار اللہ پاکستان ۱۹۹۱ء مورخہ ۸ نومبر ۱۹۹۱ء بروز جمعۃ المبارک مجلس انصار اللہ پاکستان کی محدود شوری کا انعقاد دارالذکر لاہور میں ہوا۔اجلاس دس بجے صبح زیر صدارت مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس تلاوت قرآن کریم سے شروع ہوا جو مکرم قاری محمد عاشق صاحب نے کی۔اس کے بعد عہد دہرایا گیا۔عہد کے بعد صدر محترم نے حضرت مولانا محمد حسین صاحب رفیق حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دعا کروانے کی درخواست کی۔درخواست دعا سے قبل افتتاحی کلمات فرماتے ہوئے صدر محترم نے کہا کہ امسال مجبوراً یہ اجلاس یہاں کرنا پڑ رہا ہے۔دعا کریں کہ آئندہ یہ اجلاس مرکز میں ہی ہو۔دعا کے بعد محترم صدر صاحب نے قائد عمومی کو شوری کا ایجنڈا پیش کرنے کی ہدایت فرمائی۔ایجنڈا کی پہلی تجویز صحت کے ساتھ قرآن کریم پڑھانے کے منصوبہ کے بارہ میں تھی ،اس بارہ میں قائد عمومی نے صدر صاحب کی ہدایت پر انٹرنیشنل شوری ۱۹۹۱ ء لندن میں حضرت خلیفہ امسیح الرابع کے خطاب کا اردو تر جمہ پڑھ کر سنایا۔اس کے بعد محترم صدر صاحب نے تجویز نمبر ا پر اظہار خیال کے لئے نمائندگان کے نام طلب فرمائے۔مندرجہ ذیل احباب نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔مکرم چوہدری اعجاز احمد صاحب کراچی۔(۱) قرآن کریم صحت کے ساتھ پڑھانے کے لئے ایسے استاد تیار کئے جائیں جو خودبھی مہارت حاصل کریں اور آگے ٹرینگ بھی کر سکیں۔(۲) اس غرض کے لئے احباب رضا کارانہ طور پر اپنے نام پیش کریں۔اگر رضا کار نہ مل سکیں تو PAID بھی لے لئے جائیں۔(۳) ان کی ٹرینگ مرکز میں ہو۔(۴) اس غرض کے لئے مرکز میں ایک باقاعدہ ادارہ قائم کیا جائے اور اس کی مرکزی طور پر نگرانی کی جائے۔مکرم مولانا جلال الدین قمر صاحب ربوہ۔(۱) یہ کام اتنا آسان بھی نہیں اور اتنا مشکل بھی نہیں۔اس کے لئے توجہ اور وقت دینے کی ضرورت ہے۔(۲) اس وقت سوال تجوید کا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ قرآن کریم درست طور پر پڑھنا آنا چاہیئے اور نماز بھی۔(۳) جماعت کے کچھ افراد دس بیس کی تعداد میں چن کر ان کو ابتدائی قواعد سکھائے جائیں اور ان کی کو چنگ کی جائے۔مربیان اور معلمین سے بھی استفادہ کیا جائے۔حضرت مرزا عبدالحق صاحب۔(۱) یہ بہت اہم مسئلہ ہے اس کی ابتداء صحیح پڑھنے سے ہے۔قرآن کریم کا سمجھنا بھی بہت ضروری ہے۔اس کے لئے عربی زبان کے کچھ قواعد ابتدائی طور پر آنے چاہئیں۔(۲) کیسٹ کے ذریعہ صحیح تلاوت کرنا سکھایا جائے۔مکرم چوہدری شمس الدین صاحب لاہور۔(۱) ہر مجلس کے لئے لازمی کر دیا جائے کہ اس کا ایک نمائندہ مرکز میں جائے اور قرآن کریم سکھائے اور واپس آ کر کلاس لگائے جس میں لجنہ اور خدام کو بھی شریک کیا جائے۔