تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 348
۳۴۸ ساری کائنات کا خدا بھی عرش پر مسلط ہو سکتا ہے اور جانتا ہے اور یقین رکھتا ہے اور اس کو علم ہے کہ اس کی تفصیلی توجہ کی اس طرح اب ضرورت نہیں ہے۔وہ نظام اس کی توجہ کی برکت سے آگے چل پڑا ہے اور چلتا رہے گا اور ذیلی توجہ کرنے والے بہت سے پیدا ہو چکے ہیں۔ذیلی تنظیموں کے نظام میں پختگی کی ضرورت اس لئے خدام الاحمدیہ کا نظام ہو یا لجنہ کا انصار اللہ کا ، ان میں ابھی وہ پختگی نہیں آئی، وہ روانی نہیں آئی کہ خلیفہ وقت کی ذاتی براہِ راست توجہ کے بغیر یہ پوری طرح جاری وساری ہو سکیں اور اپنی ذات میں سب کا نشس SUB CONSCIOUS دماغ کے سپرد کئے جاسکیں۔خصوصاً وہ علاقے جہاں پہلے ہی رابطے کمزور ہیں اور ان میں ان کو اپنی کامل روح کے ساتھ جاری کرنے کی ضرورت ہے وہاں لازماً خلیفہ کو اپنی شعوری توجہ کو ان کی طرف منتقل کرنا پڑے گا اور ان شعوری توجہ کا رابطہ لمبے عرصے تک رکھنا پڑے گا۔پس آج کے اس خطبے کے ذریعے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ سے تمام ممالک کی ذیلی مجالس کے اسی طرح صدران ہوں گے جس طرح پاکستان کی ذیلی مجالس کے صدران ہیں اور وہ اسی طرح براہ راست خلیفہ وقت کو اپنی آخری رپورٹیں بھجوائیں گے جس طرح پاکستان کے صدران اپنی رپورٹیں بھجواتے ہیں۔اس کام کو ہلکا اور آسان کرنے کی خاطر میں نے یہ سوچا ہے کہ پرائیویٹ سیکرٹری کے شعبے کے ساتھ ایک شعبہ ذیلی مجالس قائم کیا جائے اور سر دست و ہاں مستقل نائب پرائیویٹ سیکرٹری مقرر کرنے کی بجائے انگلستان کی جماعت سے کچھ مستعد احباب جماعت کو چن کر ان کو اس معاملے میں اپنی مدد کے لئے مقرر کروں۔وہ ان سب رپورٹوں کا مطالعہ کریں جو اس شعبے کو موصول ہوتی ہیں اور ان کے متعلق مجھ سے وقت لے کر زبانی مجھ سے گفتگو کیا کریں اور ان خاص باتوں کو HIGHLIGHT کریں یعنی نمایاں کریں جہاں میری خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔پھر میں ان رپورٹوں کی تفصیلات کو بھی پڑھ سکتا ہوں لیکن سر دست اس طرح کام آگے بڑھایا جائے گا اور میں نے یہ سوچا ہے کہ بہت سے ایسے کام اب ہمیں دنیا میں کرنے ہیں جن میں ان تنظیموں کو سب دنیا میں زندہ اور فعال بنانے کی ضرورت ہے اور ان کا رابطہ اپنی امارتوں کے ساتھ بہترین بنانے کی ضرورت ہے تا کہ کسی قسم کے رخنے کا کوئی سوال نہ رہے۔پس یہ تنظیمیں اپنی امارتوں سے کیا تعلق رکھتی ہیں اور محبت اور ادب اور وفا کا تعلق ہے یا کوئی اور تعلق ہے۔اس پر بھی میری نظر تبھی رہ سکتی ہے اگر ان کی رپورٹیں مجھے مل رہی ہوں اور میں پہچان رہا ہوں کہ ان میں کیا کیا باتیں پیدا ہو رہی ہیں۔کیار جحانات ہیں۔