تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 342 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 342

۳۴۲ تھے۔وہ ایک احمدیہ مسجد کا تفصیلی نقشہ اور اس کی ساری PLAN اور مستقبل کے متعلق کہ کیا کیا وہاں ہوگا۔وہ سب چیزیں لے کر آئے تھے اور انہوں نے ان کو بتایا کہ جب تک ہم خلیفہ وقت کو دکھا کر اس سے تمام تفاصیل منظور نہ کروالیں اور مزید ہدایت نہ حاصل کر لیں، ہمیں تسلی نہیں ہو سکتی۔اس لئے ہم مجبور ہیں۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں اس طرح تفصیل کے ساتھ اتنے کام ہو رہے ہیں اور یہ سارے ایک ذات میں اکٹھے کیسے ہو سکتے ہیں۔چنانچہ اس ضمن میں انہوں نے بات چھیڑی۔ذیلی تنظیموں کے نظام میں تبدیلی کا اعلان خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کے نظام میں میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ ایک رخنہ پیدا ہوا ہے جو واسطے کی کمی کا رخنہ ہے اور وہ اس طرح کہ اب تک مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے دفاتر اور انصار اللہ مرکزیہ کے دفاتر اور لجنہ کے دفاتر ربوہ میں تھے اور یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ ان معنوں میں مرکز یہ ہیں کہ تمام دنیا کی مجالس کے اوپر وہ نظر رکھتے ہیں اور نظر رکھنی چاہئیے ان کو۔اور ان کے مسائل سے واقف ہیں اور ان کی راہنمائی کر رہے ہیں۔میں نے چند سال پہلے یہ محسوس کیا کہ یہ بات درست نہیں ہے اور اور بھی بہت سے رخنے وقت کے ساتھ مطالعہ کے نتیجے میں میرے سامنے آنے شروع ہوئے۔اوّل یہ کہ دنیا کے اکثر ممالک کے حالات پر ان ذیلی مجالس کے دفاتر کی نہ نظر ہے نہ ہو سکتی ہے کیونکہ وہ بہت مختصر سا نظام رکھتے ہیں اور جماعتیں جو دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں، ان کے مسائل کی تفاصیل ، ان کے مسلسل حالات سے باخبری یہ ایک بہت ہی بڑا کام ہے جس کے لئے بہت گہرے روابط اور روابط کی ضرورت ہے اور محض ایک رابطے کی روکافی نہیں بلکہ مختلف روئیں چلنی چاہئیں جو ہر طرف سے رابطے کو ایک مضبوط دھارے کی شکل میں تبدیل کر دیں۔خدام الاحمدیہ کے مرکز میں اگر صرف خدام الاحمدیہ کے بعض شعبوں کی طرف سے یا بعض مجالس کی طرف سے اطلاعیں آتی رہیں تو ان کو کچھ پتہ نہیں کہ لجنہ میں وہاں کیا ہو رہا ہے۔وہاں انصار اللہ میں کیا ہو رہا ہے۔وہاں جماعت کے عمومی رجحانات کیا ہیں اور وہ اس بار یک دھارے سے حاصل ہونے والی معلومات کے نتیجہ میں ایک نتیجہ اخذ کرتے اور اس کے اوپر بعض احکامات جاری کرتے تو اس کے نتیجے میں بہت سی خرابیاں پیدا ہو سکتی تھیں۔جو خرابی دکھائی دی وہ ایک معنی میں خوبی بن گئی کیونکہ روابط کم تھے ، اس لئے غلط فیصلے بھی کم ہوئے اور بہت کم ایسے مواقع پیش آئے کہ مجالس مرکز یہ نے مختلف ممالک کے بارے میں اپنی ذیلی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ایسے فیصلے کئے جو بعد میں مشکلات کا موجب بن سکتے۔یعنی اول تو فیصلے ہی بہت کم ہوئے مگر جو فیصلے