تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 205
۲۰۵ مرکزی نمائندگان : مکرم منور احمد جاوید صاحب، مکرم بریگیڈیئر ضیاء الحسن صاحب ناظم ضلع راولپنڈی ، مکرم چوہدری غلام حسین صاحب کا رکن دفتر ۸/ اگست ۱۹۸۶ء: مجلس چنگا بنگیال : قبل از نماز جمعہ اجلاس عام ہوا۔ستم انصار سے ملاقات ہوئی۔انصار کے علاوہ تیرہ خدام اور تین اطفال بھی شامل ہوئے۔نماز با جماعت کی فضیلت بیان کی گئی۔تربیت اولاد کی طرف توجہ دلائی گئی۔تحریک جدید کے وعدہ کنندگان کی تعداد سوا اور مقدار وعدہ کم از کم تین ہزار کرنے کی تلقین کی گئی۔۸/اگست ۱۹۸۶ء: گوجر خان : خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کو ان کی ذمہ داریوں نیز تحریک جدید کے وعدہ جات کی سو فیصد وصولی کی طرف توجہ دلائی گئی۔۸/ اگست ۱۹۸۶ء : چونترہ: نماز عصر اس مجلس میں ادا کی گئی۔انصار سے ملاقات ہوئی۔ایک ناصر بوجہ بیماری تشریف نہ لا سکے۔نماز با جماعت کی طرف خصوصی توجہ دلائی گئی۔۸/اگست ۱۹۸۶ء: محمودہ: نماز مغرب اس مجلس میں ادا کی گئی۔انصار حاضر ہوئے۔تحریک جدید کی سو فیصد وصولی کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی۔۸/اگست ۱۹۸۶ء: مندوال : مرکزی وفد صبح گیارہ بجے ڈھائی میل پیدل چلنے کے بعد اس مجلس میں پہنچا۔تمام انصار سے ملاقات ہوئی۔چھ خدام بھی ملے۔نماز با جماعت اور تمام بچوں اور عورتوں کو بھی تحریک جدید میں شامل کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی۔۹ را گست ۱۹۸۶ء: جهان: انصارا اور خدام سے ملاقات ہوئی۔نماز با جماعت کی تلقین کی گئی اور وعدہ لیا گیا کہ اس میں با قاعدگی کی کوشش ہوگی۔دیگر تربیتی امور کی طرف توجہ دلائی گئی۔۹ را گست ۱۹۸۶ء : کہوٹہ: کہوٹہ کے زعیم صاحب سے ملاقات ہوئی۔کیے انصار نماز با جماعت کے پابند ہیں۔تحریک کی گئی کہ ستمبر تک وصولی تحریک جدید سو فیصد کر دیں۔۹ را گست ۱۹۸۶ء: مشتر که اجلاس عاملہ ٹیکسلا ، واہ کینٹ : نماز عصر کے بعد ایک گھنٹہ اجلاس عام ہوا۔ہر دو مجالس کے بارہ عہدیداران کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی گئی۔شعار اسلامی کی پابندی کی تلقین کی۔گھروں میں اپنی اولادوں کی تربیت کی طرف زور دینے کی تلقین کی گئی۔۹ راگست ۱۹۸۶ء : اجلاس عام واہ کینٹ : نماز مغرب کے بعد اجلاس عام منعقد کیا گیا۔حاضری پچاس تھی۔اجلاس عام میں نماز با جماعت، مجالس سوال و جواب کے انعقاد نیز تربیت اولاد کی طرف توجہ دلائی گئی تحریک جدید کے بیرون ملک ہونے والے کاموں کی تفصیل پیش کی گئی۔و راگست ۱۹۸۶ء: اجلاسات راولپنڈی شہر: ( ہر دو حلقہ جات) بعد نماز فجر مسجد نور میں ایک اجلاس عام رکھا گیا۔جس میں حاضری انصار پینتالیس ، خدام پینتیس ، اور اطفال دس کل حاضری نوے تھی۔نماز فجر کے بعد اجلاس عام کی یہ پہلی کوشش تھی۔جو بفضلہ تعالیٰ کامیاب رہی۔اجلاس عام میں بریگیڈیئر ڈاکٹر نسیم احمد صاحب