تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 177 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 177

122 اپنا جائزہ لینے کی ہدایت حضرت خلیفہ ایسیح الرابع نے خطبہ جمعہ فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۸۶ء میں فرمایا کہ ہمیں سال کے آخر میں اور نئے سال کے آغاز میں اس امر کا جائزہ لینا چاہئیے کہ ہم نے اپنے مقصد کی کس حد تک پیروی کی۔کس حد تک اس سال میں اس کی پیروی سے غافل رہے؟ کون سے موجبات ہیں جو ہمیں پیروی سے غافل رکھنے میں عمل پیرا ہیں۔کون سے ایسے محرکات ہیں جن کے نتیجہ میں ہم پہلے سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔یہ جائزہ ہونا چاہئیے۔“ یہ جائزے انفرادی بھی ہونے چاہئیں اور اجتماعی بھی ہونے چاہئیں۔جہاں تک اجتماعی جائزوں کا تعلق ہے، آج سے لے کر سال کے آخر تک ساری دنیا میں مجالس عاملہ اس موضوع پر بیٹھیں کہ ہم نے اس سال کیا کھویا ہے اور کیا پایا ہے؟ ہم سے کیا ایسی غلطیاں ہوئیں جو وہ قو میں کیا کرتی ہیں جن کا قدم موت کی طرف روانہ ہو۔کون سے ہم نے ایسے کام کئے ہیں جو زندہ قوموں کے اسلوب ہوا کرتے ہیں اور کس طرح ان غلطیوں سے بچنا چاہیئے اور کس طرح ان اچھی باتوں کی طرف پہلے سے زیادہ توجہ کرنی چاہئیے۔“ صدر محترم نے اس ارشاد کی تعمیل میں مکرم قائد صاحب عمومی کو ہدایت دی کہ اس امر کو مجلس عاملہ مرکزیہ کے اجلاس میں پیش کریں اور مجلس عاملہ خود بھی جائزہ لے اور جائزہ کا انتظام کرنے کی تجویز بھی کرے۔چنانچہ مجلس عاملہ کے اجلاس منعقدہ ۷ جنوری ۱۹۸۷ء میں اس کو زیر بحث لا کر تجاویز کوحتمی شکل دی گئی۔﴿۵۸) دورہ جات مرکزی نمائندگان آرڈینینس کے بعد جماعتی سرگرمیوں پر پابندی کے باعث اس امر کی شدت کے ساتھ ضرورت تھی کہ احباب جماعت سے رابطہ مضبوط کیا جائے اور سیدنا حضرت خلیفہ اسیح کی غیر موجودگی اور مرکز سے دوری کا احساس کم ہو نیز حضورا نو ر اور مرکز کی ہدایات اُن تک پہنچیں اور اُن کا حوصلہ بلند ر ہے اور تربیتی لحاظ سے جماعتی نظام فعال رہے اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے۔نیز مرکز میں سالانہ اجتماعات نہ ہونے کی وجہ سے محرومی کے احساس کو کم کیا جائے۔اس اہم ضرورت کو بھانپتے ہوئے مجلس انصار اللہ مرکزیہ نے دورہ جات کا ایک خصوصی ، مربوط اور جامع نظام تشکیل دیا اور پروگرام کو منظم کرنے کے لئے مرکز میں ایک دورہ کمیٹی کا قیام کیا۔اس نظام کے تحت مرکز سے قائدین ، علماء کرام اور دیگر نمائندگان مجالس میں تشریف لے جا کر تربیتی امور پر گفتگو کرتے اور اُن کی راہنمائی کرتے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ان دوروں کا غیر معمولی اثر دیکھنے میں آیا اور مجالس پہلے سے زیادہ فعال ہو کر اپنی ذمہ داریوں کی بجا آوری کرتی رہیں۔ان دورہ جات کی مختصر رپورٹس