تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 176
مرکزیہ کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔چھوٹے بچوں کی تربیت کے سلسلہ میں حضور انور کا ارشاد سید نا حضرت خلیفۃ امسیح الرابع نے اپنے خطبہ جمعہ فرموده ۱۹ دسمبر ۱۹۸۶ء میں بچوں خصوصاً سات سال سے کم عمر بچوں کی تربیت کے سلسلے بعض ہدایات دیں۔اصولی ہدایت یہ تھی کہ ذیلی تنظیموں نے ” ماں باپ کی تربیت کرنی ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کی تربیت کر سکیں۔“ فرمایا کہ ماں باپ کو بڑی ذہانت کے ساتھ ، بڑی بیدار مغزی کے ساتھ بچوں میں دلچسپی لینی چاہیئے لیکن اکثر ماں باپ ان باتوں میں نا بلد ہیں کہ ان کو کیا کرنا چاہئیے اور اس بات کی اہلیت نہیں رکھتے کہ ان کو کیا کرنا چاہئیے۔بچوں (سات سال سے کم ) کی تربیت ہم براہ راست کر نہیں کر سکتے اس لئے اس کا ایک یہی علاج ہے کہ اس عمر کے بچوں کی تربیت کے لئے ماں باپ کی تربیت کی جائے اور اس کے لئے تنظیموں کے سپرد یہ کام کر سکتے ہیں۔یہ پروگرام انصار اپنے ہاتھ میں لیں۔خدام اپنے ہاتھ میں لیں اور لجنات اپنے ہاتھ میں لیں۔اُن کا کام یہ نہیں کہ ان ماں باپ کے بچوں کے معاملات میں براہ راست دخل دیں۔ان کا کام یہ ہے کہ ) ایسے پروگرام بنا ئیں۔جلسوں کی شکل میں بھی۔عملی پروگرام کی شکل میں بھی ہوں۔تربیتی رسالوں اور کتب کی شکل میں بھی ہوں اور اُن کا صح نظریہ ہو کہ ہم نے ماں باپ کی تربیت کرنی ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کی تربیت کر سکیں اور ایسے پروگرام اس طرح بنانے چاہئیں کہ وہ خشک نہ ہوں اور ان میں دلچسپی ہو۔“ اس ارشاد کی روشنی میں صدر محترم نے مندرجہ ذیل کمیٹی ۲۷ دسمبر ۱۹۸۶ء کو تشکیل دی جس کے ذمہ سکیم بنانا تھا کہ مجلس انصار اللہ اس ارشاد کی کس طرح احسن طور پر تحمیل کر سکتی ہے اور پھر یہ سکیم مجلس عاملہ میں پیش کرے۔مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب (صدر)، مکرم قائد صاحب تربیت مکرم قائد صاحب تحریک جدید - اس بارہ میں ابتدائی سکیم کے جنوری ۱۹۸۷ء کے اجلاس مجلس عاملہ میں مکرم قائد صاحب تربیت نے پیش کی۔اس سلسلہ میں غور وفکر کے دوران مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے تجویز دی کہ والدین کی تربیت اولیت کی حامل ہے۔تا کہ انہیں معلوم ہو سکے کہ وہ بچوں کو کیا بتا ئیں۔اس سلسلہ میں کمیٹی مقرر کر دی جائے جس میں ماہر نفسیات کو بھی شامل کیا جائے چنانچہ اس کام کی صحیح خطوط پر انجام دہی کا لائحہ عمل تجویز کرنے کے لئے صدر محترم نے ایک کمیٹی مقرر کی جسے ایک ماہ کے اندر اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔اس کمیٹی کے صدر مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب، سیکرٹری محمد اسلم شاد صاحب اور دیگر ممبران میں مکرم پر و فیسر چو ہدری محمدعلی صاحب سابق پرنسپل تعلیم الاسلام کا لج ربوہ ، مکرم مولانا بشیر احمد خان صاحب رفیق ، مکرم مرز امحمد الدین صاحب ناز قائد وقف جدیدا ور مکرم پر و فیسر منور شیم خالد صاحب قائد تعلیم شامل تھے۔اس کمیٹی کو اختیار دیا گیا کہ وہ کسی بھی فرد کو بطور ممبر OPT کرے یا اس سے رائے حاصل کرے۔۵۷