تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 171 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 171

121 پروگراموں سے متعلق امیرا نیشنل پریذیڈنٹ کو مطلع کر کے اس سے اجازت حاصل کر لیا کریں اور میرا نیشنل پریذیڈنٹ کو یہ اختیار ہو کہ حکما ذیلی تنظیموں کو کسی پروگرام سے روک دے۔ایسی صورت میں اس کے لئے مرکز میں فوری اطلاع بھجوانا ضروری ہو۔حسب ذیل کمیٹی اس پر غور کرے۔(1) وکیل اعلیٰ (۲) وکیل التبشیر (۳) صدر انصار الله (۴) صدر خدام الاحمدیہ (۵) نمائندہ لجنہ اماءاللہ آپ بحیثیت وکیل اعلیٰ بھی اس کمیٹی کے صدر ہوں گے اور بحیثیت انصار اللہ کے صدر بھی۔“ اس امر پر غور کرنے کے لئے حضور کی طرف سے مقرر کردہ کمیٹی کا اجلاس ۵ نومبر ۱۹۸۶ء کو مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مندرجہ ذیل ممبران شریک ہوئے۔(۱) مکرم منصور احمد خان صاحب وکیل التبشیر (۲) مکرم محمود احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ (۳) مکرم مرزا غلام احمد صاحب نمائندہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب نے کمیٹی کی رائے سید نا حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحم اللہ تعالی کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے ۱۷ دسمبر ۱۹۸۶ء کو تحریر کیا: کمیٹی نے اس بارہ میں غور کرتے وقت اس امر کو مدنظر رکھا کہ اب جبکہ بیرونی ممالک میں جماعتی نظام کو پاکستان میں جو نظام رائج ہے۔اُس کے قریب لانے کی کوشش کی جا -1 رہی ہے۔اس لئے اس بارہ میں وہی طریق اختیار کیا جائے جو پاکستان میں رائج ہے۔پاکستان میں مجلس خدام الاحمدیہ کے قائد ضلع اور مجلس انصاراللہ کے ناظم ضلع امیر ضلع کی مجلس عاملہ کے ممبر ہوتے ہیں۔اسی طریق پر بیرونی ملکوں میں نیشنل قائد خدام الاحمدیہ اور ناظم اعلیٰ انصار اللہ ملک امیر کی مجلس عاملہ کے ممبر ہوں۔اس بارہ میں صدرانجمن احمدیہ کا قاعدہ نمبر ۳۳۹ حسب ذیل ہے۔مقامی انجمن کی مجلس عاملہ کے درج ذیل ممبران ہوں گے: امیر یا صدر ، نائب امیر یا نائب صدر، جنرل سیکرٹری ،سیکرٹری اصلاح و ارشاد، سیکرٹری تعلیم ، سیکرٹری امور عامه، سیکرٹری امور خارجیہ، سیکرٹری وصایا، سیکرٹری مال ، سیکرٹری تالیف و تصنیف، سیکرٹری ضیافت، سیکرٹری جائیداد، سیکرٹری زراعت، سیکرٹری رشتہ ناطہ، امام الصلوة ، قاضی ، محاسب، امین، آڈیٹر، زعیم اعلیٰ انصار اللہ، قائد خدام الاحمدیہ، سیکرٹری تحریک جدید، سیکرٹری وقف جدید، سیکرٹری فضل عمر فاؤنڈیشن۔نوٹ : ذیلی تنظیموں کے عہدہ دار بحیثیت عہدہ مجلس عاملہ کے ممبر ہوں گے۔وہ بحث میں حصہ لے سکیں گے مگر ووٹ نہ دے سکیں گے۔