تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 170 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 170

مجلس مذاکرہ وسلائیڈ لیکچر لیہ ۶ جون ۱۹۸۶ء کو لیہ میں مجلس مذاکرہ منعقد ہوئی جس میں مکرم مولانا غلام باری صاحب سیف نے سوالات کے جوابات دیئے اور مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے سلائیڈ لیکچر دیا۔سینتالیس احمدی اور پچپن غیر از جماعت احباب مستفیذ ہوئے۔کمیٹی برائے مشاورت تقر ر ناظمین اضلاع ناظمین اضلاع ۱۹۸۶ ء کے تقریر میں مشورہ معاونت کے لئے صدر محترم نے مندرجہ ذیل احباب پر مشتمل کمیٹی قائم کی جس نے گزشتہ ناظمین کے کام کا جائزہ لینا اور آئندہ تقرر کے لئے سفارشات مرتب کرنا تھیں۔صدر : مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب - ممبران : مکرم مولا نا محمد اسمعیل منیر صاحب، مکرم پروفیسر عبدالرشید غنی صاحب، مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب، مکرم میجر عبدالقادر صاحب مجالس بیرون کے بارہ میں اہم فیصلہ ۱۹۸۶ء میں مکرم محترم چو ہدری حید اللہ صاحب صدر مجلس کو حضرت خلیفہ مسیح الرابع کا مندرجہ ذیل ارشا د موصول ہوا: -1 خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کی تنظیموں میں مختلف ممالک میں مشنری انچارج کو نا ئب صدر ملک بنایا گیا تھا۔اس معاملہ پر مندرجہ ذیل امور میں از سر نو ر غور کی ضرورت ہے۔گذشتہ چند سالوں میں کئی جگہ مبلغ انچارج امیر نہیں رہا۔بلکہ کسی اور کو امیر مقرر کر دیا گیا ہے۔اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ امیر کو نائب صدر بنایا جائے یا مبلغ انچارج کو۔اگر مبلغ انچارج کو ہی رہنا دیا جائے تو امیر کی براه راست ذیلی تنظیموں پر نظر نہیں رہ سکتی اور بعض جگہ سے ایسی شکائتیں بھی آئی ہیں۔دوسرے اصولاً بھی آخری مرکزی فیصلہ گن منصب تو ہر ایک ملک میں امیر ہی کو حاصل ہوتا ہے۔اس منصب کو منقسم نہیں ہونا چاہئیے۔تیسرا پہلو یہ ہے کہ مبلغ انچارج یا امیر کو نائب صدر ملک مقرر کرنے کا فلسفہ یہ تھا کہ بیرون از پاکستان ممالک میں بہت سی جگہ ذیلی تنظیمیں تربیت کی محتاج ہیں اور خطرہ تھا کہ غلط روش پر چل کر نظام جماعت سے آزادی کا رجحان پیدا نہ ہو جائے۔یہ مقصد نہیں تھا کہ عملاً نا ئب صدر ملک ذیلی تنظیموں کے معاملات میں بے ضرورت دخل دے۔یہ اول تو اس کے کاموں کی زیادتی کی وجہ سے ممکن ہی نہیں۔دوسرے بہت زیادہ دخل اندازی سے اور قباحتیں بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔اس لئے یہ بھی سوچا جا سکتا ہے کہ نائب صدر کا عہدہ خدام/ انصار ہی میں رہنے دیا جائے اور قوانین میں اس حد تک ترمیم کر دی جائے کہ تمام ذیلی تنظیمیں اپنے لائحہ عمل اور حکمت عملی وغیرہ میں اس بات کی پابند ہوں گی کہ امیر نیشنل پریذیڈنٹ سے رہنمائی حاصل کرتی رہیں اور اپنے ملک کے تمام