تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 167
۱۶۷ گے۔نوٹس لینے اور زبانی سمجھنے اور سمجھانے کے لحاظ سے مکرم ملک احمد خان صاحب چھنی تاجہ ریحان اول، مکرم محمد صدیق شمس صاحب بھا بھڑہ دوم، مکرم محمد نذیر صاحب اور رحمہ سوم قرار پائے جنہیں اسناد اور ہدایات مکرم صدر صاحب نے دیں۔ضلع رحیم یار خان کا دورہ اپریل سے ۵ اپریل ۱۹۸۶ء تک مرکزی وفد نے ضلع رحیم یار خان کا دورہ کیا اور انصار کو تمام شعبہ جات کے بارہ میں ہدایات دیں۔نماز باجماعت ، حضور انور کے کیسٹ سننے، سنانے اور امتحانات میں شرکت کی طرف خصوصی توجہ دلائی۔وفد نے ۳ اپریل کو خان پور ، ۴ اپریل کو رحیم یار خان شہر اور ۵ اپریل کو صادق آباد میں اجلاسات میں شرکت کی۔یک روزه اجتماع ۹۶ گ ب ضلع فیصل آباد ۴ اپریل ۱۹۸۶ ء کو ۹۶ گ ب میں یک روزہ اجتماع منعقد ہوا جس میں پانچ مجالس کے ستانوے انصار، با ون خدام اور اڑ میں اطفال شامل ہوئے۔اجلاس دورہ کمیٹی یکم مئی ۱۹۸۶ ء بوقت ساڑھے گیارہ بجے قبل دو پہر دورہ کمیٹی کا اجلاس زیر صدارت مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب منعقد ہوا۔مکرم محمد اسلم شاد منگل صاحب، مکرم مولا نا محمد اسماعیل منیر صاحب، مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب، مکرم میجر عبدالقادر صاحب اجلاس میں شریک ہوئے۔درس قرآن مجید ماہ رمضان مبارک ۱۹۸۶ء شروع ہونے پر مجلس انصار اللہ مرکزیہ نے ضلع سرگودھا، ضلع جھنگ اور ضلع فیصل آباد کی بڑی بڑی اور نزدیکی جماعتوں میں درس قرآن کریم کا پروگرام ترتیب دیا اور نماز فجر اور نماز عصر اور جہاں پر ممکن نہیں تھا وہاں نماز عشاء سے قبل علماء سلسلہ اور مرکزی قائدین کے ذریعہ درس کا بندوبست کیا۔دوجگہ یعنی چنیوٹ اور پکا نسوانہ میں مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے جمعہ کی نماز پڑھائی اور خطبہ جمعہ میں موجودہ دور میں صبر و استقامت کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف رہنے کی تلقین بہت احسن رنگ میں فرمائی۔درس کا پروگرام انہیں ایام پر مشتمل تھا اور تئیس جماعتوں میں درس دیا گیا۔جن احباب نے اس پروگرام میں بطور مدرس شرکت فرمائی ان کے اسماء گرامی حسب ذیل ہیں۔