تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 168
۱۶۸ ۱- مکرم محمد اسلم صابر صاحب ۲ - مکرم منیر الدین احمد صاحب ۳- مکرم صوفی محمد الحق صاحب ۴ - مکرم ملک غلام نبی صاحب ۵- مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے فرمایا: - مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب ے۔مکرم چوہدری سلطان اکبر صاحب ۸- مکرم محمد اسماعیل منیر صاحب ۹ - مکرم محمد اسلم شاد منگلا صاحب ۱۰ - مکرم مولوی محمد صدیق منگلی صاحب کارگزاری کی ہر دور پورٹ جب حضرت خلیفہ امسیح الرابع کی خدمت میں پیش ہوئی تو حضورانور جزاکم اللہ۔سب رفقاء کار جنہوں نے بڑی محنت سے دورے کئے اور تربیتی لحاظ سے فائدہ پہنچایا، اُن کو میرا محبت بھرا سلام پہنچا دیں۔جزاکم اللہ ﴿۵۵) اجلاس ناظمین اضلاع وزعماء اعلیٰ مورخہ یکم اگست ۱۹۸۶ء بروز جمعہ اس اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم چوہدری عبدالغفور صاحب جھنگ نے کی۔عہد کے بعد صدر محترم نے فرمایا کہ ہر سہ ماہی میں کم و بیش ناظمین اضلاع کا ایک اجلاس کروایا جاتا ہے۔یہ اجلاس بھی اس سلسلہ کی کڑی ہے۔یادر ہانی کرواتے رہنے کی قرآن میں تاکید ہے۔مجلس کے پروگرام پھیلے ہوئے ہیں اُن پر عمل ہوتے رہنا چاہئے۔اس وقت خاص حالات یہ ہیں کہ خلیفہ وقت ملک سے باہر ہیں اس لئے ہمارے اوپر نہایت اہم ذمہ داریاں ہیں۔چند الفاظ میں اسے اس طرح بیان کر سکتے ہیں کہ ہم حضور کی غیر حاضری میں اُن کی صحیح نمائندگی کرتے رہیں اور حضور کو پاکستان سے ایسی کوئی اطلاع نہیں جانی چاہئے کہ جماعت میں کوئی سستی یا کمزوری پیدا ہوگئی ہے۔حضور کی نمائندگی میں ہم صحیح رنگ میں کام کرنے والے ہوں اور حضور بھی ہمارے کام سے مطمئن ہوں۔قیادت عمومی کے ضمن میں صدر محترم نے فرمایا کہ قائد صاحب عمومی نے جو گوشوارے آپ کو فراہم کئے ہیں اور دوسرے گوشواروں سے ایک پوری تصویر آپ کے سامنے آجاتی ہے۔ٹیم ورک ضروری ہے۔اس لئے ٹیم بنائیں ، اُن کی ٹریننگ کریں کیونکہ آئندہ غیر تربیت یافتہ نئے آنے والوں کو سنبھالنا مشکل ہوگا۔مستقبل کے لئے تیاری ضروری ہے۔اچھے ساتھی تلاش کریں۔مجالس کے دورہ کے دوران زیادہ سے زیادہ انصار سے ملنے کی کوشش کریں۔قیادت تربیت کے سلسلہ میں قیام نماز اور نماز با جماعت کی طرف خصوصی توجہ دلائی۔مساجد کو آبا د کیا جائے اور جو مساجد سے دُور ر ہائش پذیر ہوں وہ گھروں میں نماز با جماعت ادا کریں۔اس سلسلہ میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی مثال سامنے رکھیں۔نماز جمعہ میں سب افراد شامل ہوں۔نماز با جماعت میں اطفال کی شمولیت کم ہے۔مساجد یا مراکز نماز میں اطفال کو ساتھ لے کر جایا کریں۔صرف اپنی فکر نہ کریں بلکہ