تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 139
۱۳۹ کامیاب ترین نمائندہ ، فیڈرل کورٹ کے نامور حج ، باؤنڈری کمیشن میں پاکستان کے مخلص اور لائق ترجمان کی حیثیتوں میں انتھک اور پُر خلوص خدمات انجام دیں اور بانی پاکستان قائد اعظم جناب محمد علی جناح کے اعتماد پر سو فیصد پورا اترنے کے باعث پاکستان کے سب سے پہلے وزیر خارجہ بننے کا شرف حاصل کیا۔۱۹۵۴ء سے ۱۹۷۳ء تک آپ عالمی عدالت انصاف کے حج اور آخر میں اس کے صدر اور اسی عرصہ میں قریباً پانچ سال تک اقوام متحدہ کی تنظیم میں پاکستان کے مندوب اور اُس کی جنرل اسمبلی کے سترھویں اجلاس کے صدر کے عہدوں پر متمکن رہے اور اپنی خداداد قابلیتوں اور مسلسل پُر خلوص کوششوں سے مظلوم ممالک خصوصاً کشمیر و فلسطین اور دیگر عرب ممالک کے لئے گرانقدر خدمات انجام دے کر نہ صرف ان ممالک کے جائز حقوق بحال کروائے بلکہ وطن عزیز پاکستان کی عظمت کو بھی دوبالا کرنے کا باعث ہوئے۔انسانی ہمدردی اور عدل و مساوات کے جذبات سے معمور آپ کی مدلل اور مسکت شہرہ آفاق تقاریر سے ایوان ہائے شرق و غرب گونجے جن سے تاریخ عالم میں آپ کو ایک منفرد مقام حاصل ہو گیا ہے اور اس طرح بفضل خدا آپ سید نا حضرت بانی جماعت احمدیہ کی ان پیشگوئیوں کے مصداق ٹھہرے جن میں علم و معرفت میں کمال حاصل کرنے والے وجودوں کا ذکر ہے۔ہمارے موجودہ محبوب امام ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت چوہدری صاحب کے تقوی وطہارت اور علم و معرفت میں کمال رکھنے کے باعث آپ کو خدا تعالیٰ کا ایک کلمہ قرار دیا ہے۔حضرت چوہدری صاحب ایسے گوہر نایاب ، متقی و پرہیز گار اور نافع الناس وجود کی جدائی سے یقینا ہم سب اراکین مجلس عاملہ انصار اللہ مرکزیہ کو ایک گہرا صدمہ پہنچا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھتے ہوئے ہم اس کے فیصلہ پر سر تسلیم خم کرتے ہیں کہ بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پر اے دل تو جاں فدا کر نیز ہم سب بارگاہ ایزدی میں دست بدعا ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے۔ان کی اولاد، نسلوں، عزیزوں اور پیاروں کو بھی رحمتیں عطاء فرمائے اور صبر جمیل کا نمونہ اختیار کرتے ہوئے ہر ایک کو ان کی خوبیاں اپنانے کی توفیق بخشے آمین۔ہم ہیں اراکین مجلس عاملہ انصاراللہ مرکز یہ ربوہ قرار پایا کہ اس قرارداد کی نقول سیدنا حضرت امام جماعت احمد یہ ایدہ اللہ تعالیٰ ، حضرت چوہدری صاحب کی صاحبزادی محترمہ امتہ الھی بیگم صاحبہ، داماد محترم چوہدری حمید نصر اللہ خان صاحب کی خدمت میں ارسال کی جائے۔