تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 120
۱۲۰ (ب) اُس دوست کے لئے روزانہ دعا کی جائے کہ اللہ تعالیٰ اُس کا انشراح صدر کرے۔(ج) اُس دوست کی ہر مشکل میں مدد کی جائے اور ہمدردی کی جائے۔(1) کسی نمائش کے بغیر اُس کو خاموشی سے پیغام حق پہنچایا جائے۔مندرجہ بالا طریق کے مطابق تمام اضلاع کی مجالس نے کام شروع کر دیا اور خدا کے فضل سے مرکز کو خوش کن رپورٹیں ملتی رہیں۔جن اضلاع کی کارکردگی میں کمزوری محسوس کی جاتی ، اُن نزد یکی اضلاع کے ناظمین کو جمعہ کے دن مرکز بلا کر توجہ دلائی جاتی رہی جبکہ دور کے اضلاع میں مرکزی نمائندگان بھجوا کر تاکید کی جاتی رہی۔دعوت الی اللہ کی حکمت عملی سے متعلق ضروری امور -1 مرکزی پالیسی کے تابع مجالس کو مندرجہ ذیل حکمت عملی اپنانے کی ہدایت کی گئی۔ا ان ایام میں احمدیوں کی اخلاقی قوت کو ابھارنے کی طرف خصوصی توجہ دی جائے۔- ہر احمدی کو ذہن نشین کرایا جائے کہ تبلیغ بہر حال جاری رہے گی۔مندرجہ ذیل امور سے کلیۂ گریز کیا جائے۔مناظرہ ، مباحثہ ، مباہلہ ،مجالس مذاکرہ سوال و جواب۔-۲ -7 -2 سر عام تبلیغ ( زبانی ولٹریچر کی تقسیم وکیسٹ ) ۴۔ایسے افراد کو جن سے مخالفانہ ردعمل کا امکان نہ ہو، انفرادی سطح پر تبلیغ کی جائے۔۵- غیر احمدی عزیز اور رشتے دار کو جن سے مخالفت کا اندیشہ نہیں تبلیغ کی جائے۔بیرون ممالک سے پاکستان میں لٹریچر منگوا کر تبلیغ کی جائے۔برادری کی بنیاد پر اپنے (مومن ) ہونے کے معاملہ کو اٹھایا جائے۔سوشل تعلقات بڑھائے جائیں اور اپنی تقریبات میں غیر احمدیوں کو بھی شامل کیا جائے۔خدمت خلق کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے اور اس ذریعہ سے تبلیغ کی جائے۔نمائش اور تشہیر سے بچ کر پس پردہ رہ کر جماعت کے خلاف نفرت کو کم کیا جائے۔ا۔جماعت کی ملکی ہلتی اور عالم اسلام کی خدمات کو مناسب رنگ میں پیش کیا جائے۔-9 -1+ 11- -۱۲ -۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان رسول پر مبنی تحریرات پیش کی جائیں۔آرڈینینس کے نقائص اور خامیاں بیان کی جائیں اور عوام کی ہمدردیاں حاصل کی جائیں۔پریس سے رابطہ رکھا جائے اور اپنے حق میں حکمت عملی کے ساتھ مناسب مواقع پر اس سے -17 فائدہ اٹھایا جائے۔۱۵ - جماعت کے اگر اندرونی تنازعات وغیرہ ہوں تو ان کو ختم کر کے اتحاد کی صورت پیدا کی جائے۔