تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 119
119 دورہ اضلاع میانوالی، بھکر ، لیہ، ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ مکرم محمد اسلم صابر صاحب قائد تجنید ۶ جولائی ۱۹۸۴ء کو بعد دو پہر تین بجے اضلاع میانوالی ، بھکر، لیہ، ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ کے دورہ پر بذریعہ بس روانہ ہوئے۔رات ساڑھے آٹھ بجے میانوالی پہنچ کر امیر صاحب ضلع سے ملاقات ہوئی۔رات گیارہ بجے بذریعہ ریل گاڑی روا نہ ہو کرے جولائی کو صبح چار بجے بھکر پہنچے۔زعیم مقامی مکرم ملک ممتاز احمد صاحب کا مکان کافی وقت کے بعد ملا۔ناظم صاحب ضلع سے بیت احمد یہ میں ملاقات کی اور پھر تین بجے بذریعہ بس روانہ ہوئے اور نماز مغرب کے وقت بیت احمد یہ ڈیرہ غازی خان پہنچے۔یہاں پہنچتے ہی بارش شروع ہو گئی۔بیت میں حاضری اچھی تھی۔نماز کے بعد آپ نے حاضرین کو دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھنے کی طرف توجہ دلائی۔۸ جولائی کی صبح راجن پور روانہ ہوئے۔امیر ضلع مکرم میاں اقبال احمد صاحب چونکہ ایک کیس کے سلسلہ میں ملتان کے لئے رختِ سفر باندھے ہوئے تھے ، ان کے ساتھ ہی واپسی کے لئے روانہ ہوئے۔گاڑی میں ہی سفر کا مقصد بیان کیا۔انہوں نے بتایا کہ حالات ٹھیک ہیں نیز انہوں نے بتایا کہ جب یہ آرڈنینس جاری ہوا تو ایک دو دن بعد رنگین عینک لگائے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوا تو مجسٹریٹ صاحب بطور مذاق کہنے لگے کہ آرڈینینس کے باعث رنگین چشمہ لگا لیا ہے کہ شرم کے باعث آنکھیں نہ مل سکیں۔میں نے کہا کہ نہیں چشمہ اس لئے لگایا ہے کہ کہیں آپ کو شرم نہ آئے تو کہنے لگے کہ ہم خدا سے نہیں شرمائے ، آپ لوگوں سے کیسے شرما سکتے ہیں۔شام کو مکرم صابر صاحب واپس ڈیرہ غازی خان پہنچے۔اگلے روز 9 جولائی کو مظفر گڑھ کے لئے روانہ ہوئے اور ناظم ضلع مکرم کرنل بشیر احمد صاحب کو ان کے فارم غازی گھاٹ پر ملے اور حالات کا جائزہ لیا۔مغرب کے قریب وہاں سے روانہ ہو کر ملتان پہنچے۔رات بارہ بجے ٹرین کے ذریعہ لا ہور اور ۱ جولائی کو رات دس بجے وہاں سے بخیریت ربوہ پہنچے۔دعوت الی اللہ پروگرام میں جدت ظالمانہ آرڈینینس کے نتیجہ میں جب حکومت کی طرف سے دعوت الی اللہ پروگرام پر پابندی عائد کر دی گئی تو مجلس انصار اللہ مرکزیہ نے طریق کار کو فور أبدل کر کام شروع کر دیا جس کی کسی قدر تفصیل دلچسپی۔خالی نہ ہوگی۔ނ ا تمام ناظمین اضلاع کو مرکزی نمائندگان کے ذریعہ دستی طور پر پیغامات بھیجے گئے تا کہ وہ زعماء -1 سے رابطہ کر کے انصار کو داعی الی اللہ پروگرام پر عمل کرنے کی تلقین کریں۔- طریق کار جو مقرر کیا گیا۔وہ یہ تھا کہ ) ہر ناصر اپنے ایک ایسے رشتہ دار یا دوست کا انتخاب کرے جو شریف النفس ہو اور اُس کی بات سننے کے لئے تیار ہو۔