تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 82
۸۲ لقب دیا تھا۔جوانوں کے جوان ہو تم تو ہر پہلو سے اپنے بچوں اپنے چھوٹے بھائیوں سے آگے نکلنے کی کوشش کریں۔اجتماع کی حاضری جہاں تک اس دفعہ اجتماع کی حاضری وغیرہ کا تعلق ہے، بڑی ہی خوشکن رپورٹ ہے۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ انصار ہر جگہ بڑا زور مارہے ہیں کہ کسی طرح اپنے دوسرے ساتھیوں سے آگے بڑھ کر مجلس انصار اللہ کا جھنڈا بلند کریں۔چنانچہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ سال ربوہ کے ایک ہزار آٹھ سو اراکین نے اس وقت تک رکنیت کا ٹکٹ بنوا کر داخلہ لیا تھا۔اس کے مقابل پر اس دفعہ دو ہزار ایک سوبارہ انصار با قاعدہ ٹکٹ بنوا کر یہاں اجتماع میں حاضر ہوئے ہیں۔مجالس بیرون میں گذشتہ سال اس وقت تک چھ سو باسٹھ مجالس آئی تھیں اور اس دفعہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے سات سوسولہ مجالس آچکی ہیں اور باہر سے گذشتہ سال کے دو ہزار تین سو اکیس کے مقابل پر دو ہزار پانچ سو دو انصار تشریف لا چکے ہیں۔جہاں تک مجالس بیرون ملک کا تعلق ہے ان کی تعداد میں تو کمی ہے لیکن نمائندگی میں کمی نہیں۔گذشتہ سال آٹھ مجالس بیرونِ ملک تشریف لائی تھیں۔اس دفعہ چھ مجالس بیرون آئی ہیں۔لیکن نمائندوں کے لحاظ سے گذشتہ سال بھی نو تھے اور اس سال بھی نو ہیں۔بہر حال خدا تعالیٰ کے فضل سے عمومی طور پر گذشتہ سال کے مقابل پر نمایاں ترقی ہے۔جہاں تک سائیکل سواروں کا تعلق ہے انصار کو سائیکلوں پر آنے کی اس طرح تاکید نہیں کی جاتی جس طرح خدام کو کی جاتی ہے۔امسال ۲۸ اکتوبر ۱۹۸۳ء تین بجے شام کی رپورٹ یہ ہے کہ تین سو انسٹھ انصار سائیکلوں پر آئے ہیں۔جبکہ گذشتہ سال ان کی تعداد ایک سو ستانوے تھی۔تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک سو باسٹھ کا اضافہ ہوا ہے۔۔۔لمبے سے لمبا سفر جو انصار کی طرف سے کیا گیا وہ دوسو پچاس میل کا ہے۔یعنی وہ گروپ جو واہ کینٹ سے آیا ہے۔اس دفعہ ایک اور لحاظ سے بھی ایک نیا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے کہ گذشتہ سال سب سے معمر انصار دوست جو تشریف لائے ان کی عمر بیا سی سال تھی۔اور اس دفعہ جو آئے ہیں ان کی عمر پچھتر سال ہے۔ماشاء اللہ اسی طرح ایک دوست اکیاسی سالہ بزرگ حکیم محمد اسلم صاحب ایک سو اٹھائیں میل کا سفر طے کر کے آئے ہیں۔پچھتر سالہ بزرگ سراج الدین صاحب ہیں جو فیصل آباد سے تشریف لائے ہیں۔ایک اور نیاریکارڈ اس دفعہ یہ قائم کیا گیا ہے کہ ایک دوست جو ایک پاؤں سے معذور ہیں۔وہ سوٹی کے سہارے سے سائیکل چلاتے ہیں۔وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک سو دو میل کا سفر طے کر آئے ہیں۔امیر ضلع جھنگ میاں محمود احمد صاحب بھی اس دفعہ