تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 955
۹۵۵ اٹھاؤ جو شام نزدیک ہے۔جو کچھ پیش کرنا ہے وہ بار بار دیکھ لو۔ایسا نہ ہو کہ کچھ رہ جائے اور زیاں کاری کا موجب ہو۔یا سب گندی اور کھوئی متاع ہو جو شاہی دربار میں پیش کرنے کے لائق نہ ہو۔،، (۱۵) پس جلد جلد قدم اٹھاؤ کہ خدا کے انعامات تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔خدا کی رضا کا حصول مقصود ہے تو جیبوں میں کھرے سکے رکھو۔کہ کھوٹے سکے اس کے دربار میں قابل قبول نہیں۔اور یہ یقین رکھو کہ اس قادر خدا کے وعدے پورے ہو کر رہیں گے۔دنیا کی کوئی طاقت اس تقدیر میں روک نہیں بن سکتی۔پس قوت یقین میں ترقی کرو کہ مامورزمانہ فرماتے ہیں : یقین ہی وہ دیوار ہے جس پر شیطان چڑھ نہیں سکتا۔“ نیز فرماتے ہیں: ”اے خدا کے طالب بندو ! کان کھولو اور سنو کہ یقین جیسی کوئی چیز نہیں۔یقین ہی ہے جو گناہ سے چھڑاتا ہے۔یقین ہی ہے جو نیکی کرنے کی قوت دیتا ہے۔یقین ہی ہے جو خدا کا عاشق صادق بناتا ہے۔کیا تم گناہ کو بغیر یقین کے چھوڑ سکتے ہو؟ کیا تم جذبات نفس سے بغیر یقینی تحقی کے رک سکتے ہو؟ کیا تم بغیر یقین کے تسلی پاسکتے ہو؟ کیا تم بغیر یقین کے کوئی کچی تبدیلی پیدا کر سکتے ہو؟ کیا تم بغیر یقین کے کوئی سچی خوشحالی حاصل کر سکتے ہو؟، ﴿۱۲﴾ انصار بھائیو! عمر اور تجربہ کے لحاظ سے آپ کا فرض ہے کہ آپ آنے والی نسل کی اچھی تربیہ کریں۔ان کے لیے نیک نمونہ بنیں۔آپ کو یہ فکر دامن گیر رہنی چاہیے کہ آپ احمدیت کی امانت امین کے ہاتھوں میں سونپ رہے ہیں۔داعی الی اللہ بن جاؤ اور دنیا کو سیح پاک کا یہ پیغام پہنچا دو۔ہر دروازہ کھٹکھٹاؤ اور کہو کہ مامور زمانہ کے یہ الفاظ سن لو۔آپ فرماتے ہیں : ”مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں۔اور میں اس کے نوروں میں سے آخری نور ہوں۔بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے۔کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔‘ ۱۷ کی پس دنیا کو یہ پیغام دے دو کہ اگر ہلاکت خیز طوفانوں سے بچنا چاہتے ہو تو اس زمانہ کے نوح کی کشتی میں سوار ہو جاؤ۔ہر طرف ہلاکت منہ کھولے ہے۔یہی اور صرف یہی ایک امن کی راہ ہے تا مخلوق خالق سے اپنا رشتہ استوار کر لے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم داعی الی اللہ بن جائیں۔ہم اس