تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 945 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 945

۹۴۵ جس کو قرآن کریم میں یوں بیان کیا گیا ہے : لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِيْنَ شائد تو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال لے گا کہ وہ کیوں نہیں مومن ہوتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنے پیغام کے بدلے میں لوگوں کی بے حسی اور بے پروائی کی وجہ سے تکالیف اٹھا ئیں۔ان کے جذبات اور کرب کا اظہار کشتی نوح“ کے اس پیرے سے ہوتا ہے جو درج ذیل ہے : ”ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں۔کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے۔اور یہ عمل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجو دکھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔کس دف سے میں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں۔اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لیے لوگوں کے کان کھلیں۔مکمل طور پر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ پر قربان کرنا اور اس کی خلوص دل سے عبادت کرنا۔دوسروں کو بھی اس پر عمل کرنے کی ترغیب دینا۔یہی کچھ تمام سچے مذاہب کی اساس (RIASONS DETRE) ہے۔یہی دو مقاصد ہمارے بنیادی نکتے ہیں جن سے ہماری تمام پالیسیوں اور پروگراموں کا آغاز ہونا چاہیے۔میں زور دیتا ہوں کہ آپ کبھی بھی اپنی ذاتی یا اجتماعی زندگیوں میں ان کو نظر انداز نہ کریں اور نہ ہی اپنے پروگرام بناتے وقت ان کو بھولیں۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ کو اس کی حقیقی عبادت کرنے اور دوسروں کو بھی اسی کی طرف ترغیب دینے والوں میں سے بنائے۔خدا تعالیٰ آپ پر فضل کرے اور آپ کی مدد فرمائے۔آمین مرزا طاہر احمد (خلیفہ اسیح الرابع ) (۵) حضور انور کے پیغام کے بعد صدر مجلس انصار اللہ مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جس میں آپ نے اجتماع کی کامیابی اور فروغ احمدیت کے لئے اپنی بہترین خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے انصار اللہ کو اپنی اہم ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کی تلقین فرمائی۔اس کے بعد حسب پروگرام ورزشی مقابلے شروع ہوئے۔والی بال کا میچ ہوا۔نیو یارک ٹیم کے