تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 944
۹۴۴ بالیدگی عطا کرتی ہے۔در حقیقت وہ انتہائی روح کی قربانی دے کر اس بالیدگی کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔وہ اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔وہ خدا تعالیٰ سے ایک لمحہ کی دوری کو بھی موت تصور کرتا ہے۔اس کی روح ہمیشہ خدا تعالیٰ کے آستانہ پر جھکی رہتی ہے۔وہ اسی میں سکیت پاتا ہے۔اس کا اس بات پر پختہ یقین ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی یاد سے صرف ایک لمحہ کے لیے بھی دور کر دیا جائے تو وہ مر جائے۔(۳) خدا تعالیٰ ایسے مسلمان کی تعریف قرآن کریم میں ان الفاظ میں کرتا ہے: لاء في بيوتٍ أَذِنَ اللهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسِحُ لَهُ فِيْهَا بِالْغُدُةِ وَالْأَصَالِ رِجَالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ وَإِقَامِ الصَّلوة ( یہ دیئے ) ایسے گھروں میں ہیں جن کے اونچا کیے جانے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور ان میں خدا تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے اور ان میں اس کی تسبیح کی جاتی ہے۔دن کے وقتوں میں بھی اور شام کے وقتوں میں بھی۔( یہ ذکر کرنے والے) کچھ مرد ہیں جن کو اللہ کے ذکر کرنے اور نماز ادا کرنے اور زکوۃ کے دینے سے نہ تجارت اور سودا بیچنا غافل کرتا ہے۔ایک سچا مسلمان وہ ہے جو ان لوگوں کو جو خدا تعالیٰ سے بے خبر ہیں یا اس کو بھول چکے ہیں ،کو خدا تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے۔حقیقی مومن کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف نہ بلائے۔یہ منطقی لحاظ سے ناممکن ہے۔اسی منطق کے لحاظ سے وہ رابطہ جو خدا تعالیٰ پر حقیقی ایمان لانے اور اس ایمان کی تبلیغ کے درمیان ہے ، کے متعلق قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت ہمیں متوجہ کرتی ہے۔وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ اور اس سے زیادہ اچھی بات کس کی ہوگی جو کہ اللہ کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے اور اپنے ایمان کے مطابق عمل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو فرمانبرداروں میں سے ہوں۔مختصر أخدا تعالیٰ کی عبادت کرنا اور دوسروں کو اس کی عبادت کی طرف بلانا۔خدا تعالیٰ کی عظمت بیان کرنا اور دوسرے لوگوں کو اس کی عظمت بیان کرنے کی طرف متوجہ کرنا۔اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے حضور رپیش کرنا اور دوسروں کو خدا تعالیٰ کے حضور اپنے آپ کو پیش کرنے کی طرف توجہ کروانا۔قدرتی طور پر دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ایک کا دوسرے کے بغیر قائم رہنا ممکن نہیں ہو سکتا۔یہی صداقت تمام نبیوں اور ان کے بچے پیروکاروں کی زندگی سے آشکار ہوئی۔یہی سچائی حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اپنی انتہائی صورت میں ظاہر ہوئی۔