تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 942 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 942

۹۴۲ چند سالوں میں ممالک بیرون پاکستان میں مبلغ انچارج ( جو بحیثیت عہدہ انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کے لئے نائب صدر ملک بھی ہوتے تھے ) امیر ملک نہیں رہے بلکہ بعض دوسرے احباب کو امیر مقرر کیا گیا ہے اس لئے کمیٹی غور کر کے رپورٹ پیش کرے کہ کسی ملک میں امیر کو ذیلی تنظیم کا نائب صدر مقرر کیا جائے یا مبلغ انچارج کو۔یا کوئی اور صورت اختیار کی جائے۔کمیٹی کی رپورٹ پر حضور انور نے نائب صدر ملک کا عہدہ مجالس انصار اللہ بیرون پاکستان سے ختم کرنے کی منظوری عطا فرمائی چنانچہ متعلقہ قواعد میں تبدیلیاں ہوئیں جو پانچ دسمبر ۱۹۸۷ءکو دستور اساسی کا حصہ بن کر نافذ ہوئیں۔(۲) -۳- سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے نومبر ۱۹۸۹ء میں دیگر تنظیموں کی طرح مجالس انصار اللہ کے لئے بھی ہر ملک میں صدارت کا نظام جاری فرمایا اس طرح اب ہر ملک کے انصار علیحدہ نگرانی میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔یہاں بیرونی مجالس کی کارکردگی کا مختصر سا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے جو ۱۹۸۲ء سے ۱۹۸۹ء تک کا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان مجالس کی کارکردگی کا مکمل احوال پیش کرنا ممکن نہیں۔صرف چند اہم سرگرمیوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔امریکہ مکرم سید میر محمود احمد صاحب ناصر مبلغ سلسلہ کی سفارش پر اپریل ۱۹۸۰ء میں یہاں مجلس کا با قاعدہ قیام ہوا۔مکرم مسعود احمد صاحب ملک ناظم اعلیٰ مقرر ہوئے جنہوں نے اپنی مجلس عاملہ بنائی۔اگست ۱۹۸۵ء میں مکرم فضل احمد صاحب ( بوسٹن ) نئے ناظم اعلیٰ مقرر ہوئے۔۱۹۸۲ء میں مکرم فضل احمد صاحب ( بوسٹن ) بطور نمائندہ سالانہ اجتماع ربوہ میں شامل ہوئے۔۱۹۸۳ء میں اُنہیں مجالس کی تجنید اور فہرست زعماء مرکز میں موصول ہوئی۔اسی سال مکرم عابد حنیف صاحب کو بطور نمائندہ سالانہ اجتماع مرکز یہ ربوہ میں شمولیت کی سعادت ملی۔سالانہ اجتماعات پہلا سالانہ اجتماع ۸، ۹ مئی ۱۹۸۲ء کو منعقد ہوا۔اس کی تفصیل تاریخ انصار اللہ جلد دوم میں آچکی ہے۔دوسرے سالانہ اجتماع کے لئے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الرابع اور صدر محترم کا پیغام موصول ہوا۔۱۹۸۴ء کے اجتماع کے لئے صدر محترم نے اپنا پیغام بذریعہ تار بھجوایا۔۱۹۸۳ ء اور ۱۹۸۹ء کے اجتماعات کی روداد پیش ہے۔دوسرا سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ امریکہ کا دوسرا سالانہ اجتماع ۲۱ - ۲۲ مئی ۱۹۸۳ء بروز ہفتہ۔اتوار بمقام بیت فضل واشنگٹن ڈی۔سی منعقد ہوا۔نماز عصر کے بعد تلاوت قرآن کریم اور عہد کے ساتھ اجتماع کا آغاز ہوا۔افتتاحی