تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 941
۹۴۱ مجالس بیرون کی مختصر کارگزاری ۱۹۸۹ء سے قبل انصار اللہ عالمگیر کا مرکزی دفتر ربوہ میں تھا اور صدر مجلس انصاراللہ مرکز یہ بیرون پاکستان بھی مجالس کے قیام، بیداری اور تربیت کے ذمہ دار تھے اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے انصار کی تنظیم ، مجالس انصاراللہ کا قیام ، عہدیداران کا تقر ر اور تنظیمی امور کی بطریق احسن انجام دہی ان کے دائرہ کار میں آتی تھی۔ہر دور کے صدر نے اپنے اپنے حالات کے مطابق مجالس انصار اللہ بیرون کی تنظیم کے لیے انتھک کوشش کیں۔ان کوششوں میں ایک قابل قدر اور مفید اضافہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے عہد صدارت میں ہوا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے مجالس بیرون کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور اس میں اضافہ کا ٹارگٹ مقرر فرمایا۔قیادت مجالس بیرون نے صدر محترم کے ارشادات اور رہنمائی کی روشنی میں مجالس کی تنظیم نو کی ، ان سے خط و کتابت کی اور انہیں اس امر کا مکلف ٹھہرایا کہ وہ اپنی ماہانہ اور سالانہ کارکردگی کی رپورٹیں صدر محترم کی خدمت میں با قاعدہ بھیجوا ئیں۔اس طریق پر کام میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے۔مجالس بیرون کی کار کردگی میں ایک نمایاں اضافہ ۱۹۸۱ء میں اس وقت ہوا جب صدر محترم کی درخواست پرسید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب نائب صدر کو بیرونی ممالک کے دورہ کی اجازت مرحمت فرمائی۔مکرم چوہدری صاحب نے دوماہ کے مختصر عرصہ میں نو ممالک کا دورہ کیا اور مجالس کی تنظیم اور کارکردگی کا جائزہ لے کر صورتحال کو خوب تر بنانے کی سعی کی۔یہ دورہ مجالس بیرون کی بیداری میں ایک اہم اور بنیادی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔اس دورہ کی تفاصیل تاریخ انصار اللہ جلد دوم میں بیان ہو چکی ہیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے بعد مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کے عہد صدارت میں بھی ترقیات کا یہ سلسلہ جاری رہا۔مجالس بیرون کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل تین امور پیش نظر رہنے چاہئیں۔ا - سیدنا حضرت خلیفۃ اسیح الثالث نے ۱۹۷۹ء میں یہ قاعدہ منظور فرمایا کہ ” پاکستان سے باہر ملک کا مشنری انچارج اس ملک میں مجلس انصاراللہ کا نائب صدر ہوگا ، وا -۲- سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے ۱۹۸۴ء میں ایک کمیٹی قائم فرمائی جس کے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ گزشتہ