تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 814 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 814

۸۱۴ چوتھا اجلاس جل بھٹیاں میں بعد نماز جمعہ شروع ہوا اس میں ایک غیر ملکی طالب علم نے تقریر کی اور مکرم کاہلوں صاحب نے ختم نبوت اور وفات مسیح اور جماعتی سرگرمیوں کے موضوع پر تقریر کی۔آخری اجلاس مجلس مذاکرہ کی شکل میں منعقد ہوا۔اس میں علاقہ کے ذی علم اور با اثر لوگوں نے سوالات کئے اور مکرم کا ہلوں صاحب نے جوابات دیئے۔اس اجلاس میں سو سے زائد احمدی اور پچاس سے زائد غیر از جماعت افراد نے شرکت کی۔تربیتی اجتماع انصار اللہ شہر فیصل آباد ۱۵ دسمبر ۱۹۸۵ کو فیصل آباد شہر کا تربیتی اجتماع منعقد ہوا۔جس میں صدر محترم کے علاوہ قائد تحریک جدید مکرم منور احمد صاحب جاوید اور مکرم بشیر احمد خان صاحب رفیق نے شرکت کی۔نماز مغرب وعشاء کے بعد حلقہ دار الذکر اور حلقہ دار الفضل فیصل آباد کا اجلاس عام ہوا۔حلقہ دارالذکر کے اکسٹھ اور دارالفضل کے ساٹھ کل ایک سوا کیس انصار شامل ہوئے۔تلاوت ، عہد اور نظم کے بعد مکرم ملک منور احمد صاحب جاوید نے تحریک جدید کے بارہ میں خطاب کیا اور تحریک کی کہ ہر فرد خود اور اُس کے تمام عزیز واقارب سب تحریک جدید میں شامل ہوں۔نیز سادہ زندگی کو اپنا کر اپنی ساری بچتیں خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کریں۔رسومات سے بکلی پر ہیز کریں اور تحریک جدید کی کامیابی کے لئے دعا کرنا شعار بنالیں۔مکرم بشیر احمد خان صاحب رفیق نے حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی سیرت کا وہ پہلو پیش کیا جس کا تعلق سلسلہ کی محبت سے تھا اور بتایا کہ حضرت چوہدری صاحب اپنی ذات پر حیرت انگیز حد تک کم خرچ کرتے تھے مگر سلسلہ کے لئے اپنا مال بے دریغ حاضر کر دیتے تھے۔صدر محترم نے احباب کو مندرجہ ذیل ہدایات دیں۔(۱) ہفتہ میں کم از کم ایک مرتبہ ہر حلقہ میں فجر ، مغرب، عشاء میں نمازیوں کی گنتی کریں اور اس حلقہ کی تجنید کے ساتھ مقابلہ کر کے رپورٹ مرکز میں بھجوائیں۔(۲) انصار کی ذمہ داری اپنی ذات کے ساتھ ساتھ گھر کے سب افراد کی بھی ہے۔خاص طور پر انصار نگرانی کریں کہ مستورات کو نماز آتی ہے اور وہ نماز ادا کرتی ہیں۔(۳) مراکز نماز سے دوری والے گھرانے جو بوجوہ کسی مرکز نماز میں نہ آ سکیں ، جہاں تک ممکن ہوا اپنے گھروں میں نماز با جماعت کا انتظام کریں۔(۴) اپریل ۱۹۸۴ء سے خلیفہ وقت اور پاکستان کی جماعت کے درمیان ایک جسمانی دوری پیدا ہوئی ہے مگر روحانی دوری نہ پیدا ہونے دیں۔نوجوان نسل کی فکر کریں کہ اُن کا تعلق حضور کے ساتھ ہر لمحہ ترقی پذیر رہے۔اس کا بڑا ذریعہ حضور کی کیسٹیں بھی ہیں۔