تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 770 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 770

22۔سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی خصوصی شفقت ماہنامہ انصار اللہ کی یہ خوش نصیبی ہے کہ سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الرائع اس کا باریک بینی سے مطالعہ فرماتے۔حضور نے بار ہا اس کے مضامین پر توصیفی خطوط محترم صدر صاحب انصار اللہ اور مکرم مدیر صاحب کو لکھے۔حضور نے رسالہ میں شامل مواد کے معیار کو مزید بلند کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی اور اس ضمن میں متعدد مرتبہ اپنی قیمتی ہدایات سے نوازا۔حضور نے مضامین پر علمی تبصرے بھی فرمائے۔حضور انور کی وسعت مطالعہ کا اس امر سے بھی اظہار ہوتا ہے کہ کتابت اور طباعت کی غلطیوں کی بھی نشاندہی فرمائی۔ترجمہ کرنے والوں کے لیے ارشاد فرمایا کہ ترجمہ کرتے وقت مضمون کو کھولنا اور واضح کرنا چاہیے تا کہ پڑھنے والوں کے لیے اس کا سمجھنا مشکل نہ ہو۔سید نا حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت بعض مضامین پر پسندیدگی کا اظہار فرمایا مثلاً فضائل القرآن۔قرآن حکیم کی مدد سے تورات و انجیل کے متن کی تصحیح، از قلم مکرم ابوالفضل راشد صاحب (شمارہ جولائی ۱۹۹۳ء)۔نو مبائعین کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود کی پاکیزہ نصائح، از قلم مکرم انتصار احمد صاحب نذر (شمارہ مارچ ۱۹۹۸ء )۔سیاح نبئی ( بسلسلہ مسیح ہندوستان میں) از قلم مکرم مظفر چوہدری صاحب (شمارہ اپریل ۱۹۹۸ء کی سید نا حضرت خلیفہ اسیح الرابع کا اظہار خوشنودی سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے مکرم ابوالفضل راشد صاحب کے مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے تحریر فرمایا: جولائی ۱۹۹۳ء کے شمارہ میں فضائل القرآن کے عنوان سے ابو الفضل راشد صاحب کا جو مضمون شائع ہوا ہے بڑا اچھا مضمون ہے۔بہت پسند آیا ہے۔یہ کون ہیں۔ان کا تعارف تو کروائیں۔نئے لٹریچر پر بھی ان کی نظر ہے۔اگر چہ معلوم ہوتا ہے کہ نئے لٹریچر پرا بھی پوری طرح عبور نہیں اور کچھ کمی ضرور ہے۔لیکن اس کے باوجود اس تک رسائی کے لئے ان کی طرف سے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔اس مضمون میں اور بعض دیگر مضامین میں کافی ایسی باتیں ہیں جن پر خدا کے فضل سے پہلے ہی ہم یہاں تحقیق کروا ر ہے ہیں۔اب اس مضمون کا مطالعہ کرتے ہوئے کئی اور کھڑکیاں تحقیق کی کھلی ہیں جن سے ہم انشاء اللہ استفادہ کریں گے۔مضمون اچھا ہے اور بہت عمدہ کوشش کی ہے۔جزاھم اللہ احسن الجزاء۔ان سے کہیں کہ اگر وہ الفضل انٹر نیشنل کے لئے بھی لکھ سکتے ہوں تو بے شک مقالے لکھ کر بھجوائیں۔اللہ ان کے علم و عمل میں برکت دے۔(۲)