تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 756
۷۵۶ مکرم مولانا غلام باری سیف صاحب اگست ۱۹۸۰ ء تا اکتوبر ۱۹۸۵ء مکرم سید عبدالحئی شاہ صاحب نومبر ۱۹۸۵ء تا جنوری ۱۹۸۶ء مکرم مرز امحمد الدین ناز صاحب فروری ۱۹۸۶ء تا دسمبر ۱۹۹۳ء مکرم مولا نا نصر اللہ خان ناصر صاحب جنوری ۱۹۹۴ ء تا دسمبر ۱۹۹۹ء بعض اہم کوائف اس دوران ماہنامہ کے پبلشر مکرم چوہدری محمد ابراہیم صاحب اور پرنٹر مکرم قاضی منیر احمد صاحب رہے۔رسالہ ضیاء الاسلام پریس ربوہ سے دوماہ کے عارضی تعطل کے علاوہ بفضلہ تعالی با قاعدگی سے چھپتا رہا۔ضیاء الاسلام پریس ربوہ کو حکومت پنجاب نے ۱۲ دسمبر ۱۹۸۴ء کو تین ماہ کے لئے جبری طور پر سر بمہر کر دیا جس کی بناء پر ماہنامہ انصار اللہ کا ماہ جنوری اور فروری ۱۹۸۵ء کے شمارے شائع نہ ہو سکے اور اس کی بجائے تربیتی مضامین کے نام سے اڑتالیس صفحات کا کتابچہ شائع کر کے خریداران کو بھجوایا گیا۔یہ بندش ۲۵ مارچ ۱۹۸۵ء تک جاری رہی جب تین ماہ اور چودہ دن بعد پریس کو حکومت نے واگزار کر دیا اور ماہ مارچ و اپریل ۱۹۸۵ء کا رسالہ اکٹھا شائع کیا گیا اور اس طرح یہ روحانی نہر پھر سے تشنہ روحوں کو سیراب کرنے لگی۔1 اردو کتابت میں کمپیوٹر کا انقلاب آنے کے بعد ماہنامہ انصار اللہ کو بھی جزوی طور پر کمپیوٹر کتابت پر منتقل کرنے کا کام مارچ ۱۹۹۲ء میں شروع کیا گیا۔عربی کی کتابت معیاری نہ ہونے کے سبب مئی ۱۹۹۲ء میں عربی کے سوا کتابت کمپیوٹر پر کروائی گئی۔یہ تجربہ ابھی کامیابی سے پوری طرح ہمکنار نہیں ہوا تھا اس لئے ۱۹۹۴ء کے آغاز سے دوبارہ کا تب سے لکھوایا گیا۔فنی خرابیوں پر قابو پانے کے بعد جولائی ۱۹۹۸ء سے تمام رسالہ کمپیوٹر پر ڈیزائن کیا گیا۔یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔۱۹۸۲ء میں ماہنامہ کا سالانہ چندہ پندرہ روپے تھا۔مئی ۸۳ ء میں صدر محترم نے سیدنا حضرت خلیفة المسیح الرابع" کی خدمت میں تحریر کیا کہ حضور نے ۱۹۸۱ء میں بطور صدر مجلس سالا نہ چندہ بڑھانے کی اجازت نہیں دی تھی اور اس کے بعد ۱۹۸۲ء میں انہوں بھی چندہ نہ بڑھایا۔اب اخراجات کے پیش نظر چندہ جولائی ۱۹۸۳ء سے ہیں روپے کئے جانے کی اجازت مرحمت کی جائے۔اس خط میں صدر محترم نے ان کوششوں کا بھی ذکر کیا جن سے خریداری میں اضافہ اور اخراجات میں کمی کی گئی۔حضور انور نے اس خط پر ۱۶ مئی ۱۹۸۳ء کو تحریر فرمایا: اجازت ہے۔نیز ادارت کا معیار بلند کرنے کی طرف بھی توجہ کریں۔جزاکم اللہ “ ازاں بعد سالا نہ چندہ میں جو اضافے ہوئے وہ اس طرح تھے : جنوری ۱۹۸۹ء میں تمہیں روپے، جنوری ۱۹۹۴ء سے چالیس روپے، جنوری ۱۹۹۶ء سے ۱۹۹۹ ء ساٹھ روپے سالانہ