تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 719 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 719

واء کسی سب کمیٹی یا افراد کو عارضی طور پر تفویض کر دے۔ایسی سب کمیٹیوں کی رپورٹ آخری منظوری کے لئے مجلس شوری یا خلیفہ وقت کے پاس پیش ہوگی۔اس سے تاثر ملتا تھا کہ مجلس شوری از خود آخری منظوری دینے کی مجاز ہے۔اس ابہام کو دور کرنے کے لئے قیادت عمومی نے تجویز کیا کہ اس قاعدہ کو ایسی سب کمیٹیوں کی رپورٹ آخری منظوری کے لئے مجلس شوری کے توسط سے یا براہ راست حضرت خلیفتہ المسیح کے پاس پیش ہوگی۔“ کے الفاظ میں بدل دیا جائے۔مجلس شوری (۱۹۸۷ء) نے اس تبدیلی کے حق میں مشورہ دیا۔چنانچہ مذکورہ سفارشات حضرت خلیفہ مسیح الرابع کی منظوری سے دستور کا حصہ قرار پائیں۔ان تمام ترامیم کو دستور اساسی کے چھٹے ایڈیشن میں شامل کر لیا گیا جو اپریل ۱۹۸۹ء میں طبع ہوا۔تاریخ دستور اساسی ۱۹۹۰ء تا ۱۹۹۹ء ۳ نومبر ۱۹۸۹ء کے خطبہ جمعہ کے دوران حضرت خلیفتہ المسیح الرابع " نے اعلان فرمایا کہ آئندہ سے تمام ممالک کی ذیلی مجالس کے اسی طرح صدران ہوں گے جس طرح پاکستان کی ذیلی مجالس کے صدران ہیں۔اور وہ اسی طرح براہ راست خلیفہ وقت کو اپنی 66 رپورٹس بھجوائیں گے جس طرح پاکستان کے صدران اپنی رپورٹس بھجواتے ہیں۔“ اس انقلابی فیصلہ کے بعد مجلس انصار اللہ مرکز یہ کا دائرہ کار پاکستان تک محدود ہو گیا۔مکرم وکیل اعلیٰ صاحب تحریک جدید نے حسب ہدایت حضور انور دستور اساسی ( بزبان انگریزی ) جاری کیا جو پاکستان و بیرون پاکستان ہر ملک کو اس ہدایت کے ساتھ بھجوایا کہ وہ اسے اپنے ہاں فوری طور پر نافذ کر دیں اور اگر کوئی مجلس اپنے ملکی حالات کے مد نظر کوئی ترمیم چاہتی ہے تو بتوسط مجلس شوری سید نا حضرت خلیفہ اسیح سے مطلوبہ تبدیلی کی منظوری حاصل کر لے۔مجلس انصار اللہ پاکستان نے حضور کے خدمت میں اپنے حالات کے لحاظ سے بعض تبدیلیوں کی سفارش کی جو حضور انور نے بعض ترمیمات کے بعد منظور فرما لیں۔یہ سب تبدیلیاں ۱۹۹۴ء میں شائع ہونے والے ساتویں ایڈیشن میں شامل کر لی گئیں۔اس طرح دستور اساسی کو ملکی تنظیم کے قواعد کے مطابق ڈھال دیا گیا۔مندرجہ ذیل ترامیم حضورانور نے منظور فرمائیں: قاعدہ نمبر ۵: اس دستور کا نفاذ حضرت خلیفہ امسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری کے بعد نومبر ۱۹۸۹ء سے ہو چکا ہے۔قاعدہ نمبرے: سلسلہ عالیہ احمدیہ کا مرکز ہی ہمیشہ اس مجلس کا مرکز ہوگا۔ترمیم: پاکستان میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کا مرکز ہی ہمیشہ اس مجلس کا مرکز ہوگا قاعدہ نمبر1: (الف) سے عالمگیر اور (ب) سے مرکزیہ کا لفظ حذف کیا گیا۔قاعدہ نمبر ۱۲: مجلس عامه عالمگیر: حذف