تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 720
۷۲۰ قاعدہ نمبر ۱۳: مجلس عامه ملک قاعدہ نمبر ۱۸: مجلس عامه پاکستان قاعدہ نمبر ۲۰ : مجلس عامله ملک قاعدہ نمبر ۲۴: اراکین مجلس شوریٰ انصار اللہ میں سے بھی مجلس عاملہ مرکز یہ کومجلس عاملہ ملک کے الفاظ میں تبدیل کیا گیا اور ناظمین اعلیٰ ملک اور صحابہ کرام کا لفظ حذف کر دیا گیا۔قاعدہ نمبر ۳۹ ( انتخاب صدر): مجلس عالمگیر کو مجلس عامہ ملک میں تبدیل کر دیا گیا۔قاعدہ نمبر ۴۰ ( انتخاب صدر) مجلس عامله مرکز یه کو مجلس عاملہ ملک میں تبدیل کر دیا گیا۔قاعدہ نمبر ۴۴ : سابقہ صدر مجلس کے لئے مرکز سلسلہ عالیہ احمدیہ میں رہائش ضروری ہوگی۔تبدیلی: پاکستان کے صدر مجلس کا انتخاب مجلس انصار اللہ ربوہ کے اراکین میں سے ہوگا۔سوائے اس کے کہ کسی دوسری مجلس کا مبر منتخب ہو اور منظوری سے پہلے اس بات کی یقین دہانی کروائے کہ وہ بلا تاخیر اپنی رہائش ربوہ منتقل کر لے گا۔قاعدہ نمبر ۴۸ ( اراکین مجلس عاملہ مرکزیہ ) مجلس عاملہ مرکزیہ کو مجلس عاملہ پاکستان میں تبدیل کر دیا گیا۔قاعده ۴۹ تا ۵۴: بابت ناظم اعلی ملک واراکین مجلس عاملہ ملک۔حذف کر دئیے گئے۔قاعدہ نمبر ۷۴ ( فرائض و اختیارات مجالس): مجلس عاملہ مرکزیہ کو مجلس عاملہ ملک میں تبدیل کر دیا گیا۔قاعدہ نمبر ۷۵ ( فرائض و اختیارات مجالس ) مجلس عالمگیر کو مجلس عاملہ پاکستان میں تبدیل کر دیا گیا۔قاعدہ نمبر ۷۶ ( فرائض و اختیارات مجالس مجلس عالمگیر کو مجلس عامہ پاکستان اور مجلس عاملہ مرکز یہ کو دد مجلس عاملہ ملک میں تبدیل کر دیا گیا۔قاعدہ نمبر۷۷، ۷۸ (فرائض و اختیارات مجالس ) مجلس عالمگیر سے مجلس انصاراللہ عامہ پاکستان“ قاعدہ نمبر ۷۹ ( مجلس شوریٰ انصار الله : « مجلس عامہ عالمگیر کی مجلس عامہ پاکستان میں تبدیل کر دیا گیا۔قواعد نمبر ۸۶، ۸۷) فرائض مجلس عامہ ملک ): حذف کر دیے گئے۔قواعد نمبر۹۶،۹۵،۹۴، ۹۸،۹۷، ۱۰۱،۱۰۰،۹۹ ۱۰۲ ۱۰۳ ۱۰۴ ۱۰۵: مجلس عاملہ مرکزیہ کو مجلس عاملہ پاکستان، مجلس عالمگیر کو مجلس عامہ پاکستان «مجلس شوریٰ انصار اللہ کو مجلس شوریٰ انصار اللہ پاکستان“ قاعدہ نمبر ۱۰۳: مجلس عاملہ مرکزیہ کو اختیار ہو گا کہ خاص حالات میں صدر مجلس سے منظوری حاصل کر کے مجلس شوریٰ کے فیصلوں کو دوبارہ مجلس شوری میں پیش کئے بغیر تبدیل یا منسوخ کر دے۔تاہم دستور اساسی میں کسی ترمیم ، تنسیخ یا تبدیلی پر قاعدہ نمبر ۷۸ حاوی ہوگا۔تبدیل شده : مجلس عاملہ پاکستان کو اختیار ہو گا کہ خاص حالات میں صدر مجلس سے منظوری حاصل کر کے مجلس شوری کے فیصلوں کو دوبارہ مجلس شوری میں پیش کئے بغیر تبدیل یا منسوخ کرنے کی سفارش حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں پیش کرے۔"