تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 40 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 40

کلائی پکڑنا : اول مکرم نوازش علی صاحب بھلوال، دوم مکرم ناصر احمد صاحب وڑائچ، سوم مکرم مقبول احمد صاحب چیمہ گولہ پھینکنا اول مکرم شیر محمد صاحب رجوع، دوم مکرم لطیف احمد صاحب فیصل آباد سوم مکرم سراج الحق صاحب قریشی ربوه دور سو میٹر: اول مکرم جمیل احمد صاحب احمد نگر، دوم مکرم عبد الغفور صاحب ر بوه سوم مکرم عبداللطیف صاحب فیصل آباد میوزیکل چیئر ز : اول مکرم مقبول احمد صاحب احمد نگر ، دوم مکرم ولی محمد صاحب احمد نگر سوم مکرم قریشی منظور احمد صاحب لاہور لانگ جمپ: اوّل مکرم رشید خالد صاحب ، دوم مکرم مولوی لطیف احمد صاحب فیصل آباد، سوم مکرم حمید اللہ صاحب سندات خوشنودی سائیکل سوار : مکرم علی محمد صاحب محمود آباد فارم ضلع تھر پارکر ، مکرم چوہدری عطاء اللہ صاحب چک ۱۷ ا چھو رضلع شیخو پوره انعامی وظیفہ انصار اللہ برائے اطفال سال ۱۹۸۲ء اوّل: عزیزم اظہر محمود صاحب ناصر ابن مکرم شیخ ناصر احمد صاحب اوکاڑہ دوم : عزیزم محمود احمد صاحب شاہد ابن مکرم سعید احمد صاحب عزیز آباد کراچی (۷) سید نا حضرت خلیفہ اسیح الرابع کا خطاب تقسیم انعامات کی کارروائی کے بعد حضور پُر نور نے بارہ بج کر چار منٹ سے ایک بجے تک خطاب فرمایا اس طرح قریباً ایک گھنٹہ تک حضور کا خطاب جاری رہا۔تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا یہ بے انتہاء احسان اور کرم ہے کہ ہر پہلو سے مجلس انصار اللہ کا یہ اجتماع خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب رہا۔اور پہلے اجتماع کی نسبت بڑھ کر رہا۔افتتاحی تقریر میں میں نے آپ سے یہ گزارش کی تھی کہ اگر چہ چند پہلوؤں سے گذشتہ سال سے یہ اجتماع پیچھے ہے۔لیکن عمومی طور پر خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ نمایاں ترقی نظر آ رہی ہے۔اس دوران معلوم ہوتا ہے مجلس مرکز یہ نے پھر کچھ کوشش کی ہے اور کچھ اعداد و شمار کی دوبارہ چھان بین کی گئی ہے۔اس وقت جو نتیجہ سامنے ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر جہت سے ہمارا یہ سال بھی گزشتہ سال سے آگے نکل گیا ہے۔چنانچہ بیرونِ ربوہ پاکستان سے نوسو بیالیس مجالس، ربوہ ایک اور بیرون پاکستان سے غالباً تیرہ مجالس۔یہ کل نو سو چھپن مجالس شریک ہوئیں۔جب کہ گزشتہ سال آٹھ سو بیالیس مجالس شریک ہوئی تھیں۔تو خدا تعالیٰ کے فضل سے نمایاں ترقی ہے۔اس دفعہ باہر سے آنے والوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور جہاں تک