تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 632 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 632

۶۳۲ تنظیم کا کام ہے کہ وہ ہدایات عہدیداران تک پہنچائے اور وہ آگے انصار تک پہنچائیں اور یوں ان کے نتائج واپس تنظیم کو ملیں۔اگر یہ سارا سرکل نہیں چلتا تو تنظیم کہیں غیر مؤثر ہے۔ہماری ذمہ داری ہے کہ خلیفہ وقت کے ارشادات ہر فردِ جماعت تک پہنچیں۔مرکز میں بھی اور باہر کی مجالس میں بھی ابھی بیداری کی بہت ضرورت ہے۔مجلس عاملہ کے اراکین ہمجالس میں دوروں کے لیے مہینہ میں کم از کم ایک دن ضرور دیں۔دعوت الی اللہ کے سلسلہ میں محترم صدر صاحب نے ہدایت فرمائی کہ دیہات سے رابطہ بڑھانے کی بہت ضرورت ہے۔مجالس کے اندر حرکت پیدا کرنی چاہیے۔کسوف و خسوف کے موضوع کو بھی جاری رکھنا چاہیے۔لٹریچر اور اس کی تقسیم کا نظام ساتھ طے ہونا چاہیے۔ڈش کے پروگراموں میں زیادہ سے زیادہ غیر از جماعت کو لانے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔صحت کے ساتھ قرآن کریم پڑھانے کے بارہ میں صدر صاحب نے فرمایا کہ اس پر پوری شوری منعقد ہو چکی ہے اور اس بارہ میں تفصیلی ہدایات دی گئی ہیں۔عملی لحاظ سے ابھی تک کوئی خاص کام نہیں ہوا۔جو کام ہو رہا ہے ، اس کا جائزہ لینا چاہیے اور نئے سرے سے کام کو اٹھانا چاہیے۔مکرم قائد صاحب تعلیم القرآن اس سلسلہ میں شوری کی تفصیلی ہدایات کا مطالعہ کر لیں۔شعبه بہ تعلیم کے بارہ میں صدر صاحب نے ہدایت دی کہ ترجمہ نماز سو فیصد کو سکھایا جائے اسی طرح قرآن کا ترجمہ سیکھنے کی طرف توجہ دلائی جائے خواہ نیچے تر جمہ پڑھ کر سمجھنے کی کوشش کریں۔اسکے بعد مکرم ڈاکٹر لطیف احمد قریشی صاحب صدر علم انعامی کمیٹی نے سال ۱۹۹۴ء کے لیے علم انعامی کی حقدار اور پہلی دس مجالس کے بارہ میں کمیٹی کی رپورٹ پیش کی جس پر مجلس عاملہ نے اس کی منظوری کے لیے حضورانور کی خدمت میں سفارش کی۔آخر میں دعا کے ساتھ یہ اجلاس قریباً چھ بجے شام اختتام پذیر ہوا۔نماز کے بعد جملہ اراکین عاملہ اور کارکنان دفتر کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔تعداد مجالس سال به سال ۱۹۸۲ سے ۱۹۹۹ تک انصار اللہ کی تعداد مجالس مندرجہ ذیل چارٹ کے مطابق اٹھارہ سال کے عرصہ میں نو سو چالیس سے بڑھ کر ایک ہزار بتیس ہوگئی۔الحمد للہ سال ۱۹۸۲ء ١٩٨٣ء تعداد مجالس ۹۴۰ ۹۵۰ سال تعداد مجالس ١٩٩١ء ١٩٩٢ء ۱۰۲۰ ۱۰۳۱