تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 37 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 37

۳۷ چاہئے کہ عظمت مرہونِ منت ہے خدا کے فضل اور محنت کی۔پس انصار بھائیو! تربیت کے اس پہلو یعنی اولاد کی تعلیم و تہذیب سے بھی غافل نہ ہوں۔اُن کے اخلاق کو آراستہ کریں۔انہیں ذمہ داریوں کے اُس بار کو اُٹھانے کے قابل بنائیں جو کل ان کے کندھوں پر رکھا جانے والا ہے۔اُن کے اندر نور الدین کی سی اطاعت ہو، تو صاحبزادہ عبداللطیف جیسی جرات ، با بوفقیر علی اور منشی اروڑے خان جیسی دیانت ہو تو مولانا شیر علی جیسا زہرا نہیں نصیب ہو۔مولا نا برہان الدین جیسی بے نفسی ہو تو منشی ظفر احمد اور منشی رستم علی جیسا ایثار کل سماء احمدیت کی رونق یہ ہوں گے۔جبینِ احمدیت کا جھومر یہی بنیں گے اور آنے والی نسل کے شاہسوارو! تم سے کہتا ہوں جوانو! اب تمہارے ہاتھ میں تقدیر عالم ہے تمہیں ہو گے فروغ بزمِ امکاں ، ہم نہیں ہونگے (10) نمائندہ امریکہ کا خطاب محترم فضل احمد صاحب انجینئر (نمائندہ انصار اللہ امریکہ) نے سالانہ اجتماع کے موقعہ پر خطاب فرمایا۔آپ نے بیان کیا کہ ۱۹۷۲ ء تک میں کیتھولک چرچ کا سرگرم رکن تھا۔میں ہائی سکول میں عیسائیت کے متعلق اسباق پڑھاتا تھا اور چرچ میں پادریوں کے ساتھ عبادت کے وقت ان کا نائب ہوتا تھا۔پادریوں کو اکثر گھر پر بھی بلا تا اور ان کی خدمت کرتا تھا۔چرچ اور پادریوں اور دوسرے عیسائیوں میں بہت زیادہ کمزوریاں پائی جاتی تھیں۔میں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اور اس کے ساتھ ہی حقوق انسانی کمیٹی میں حصہ لینا شروع کیا تو اس پر پادری میرے خلاف ہو گئے اور میری فیملی اور بچے بھی ان کی آنکھوں میں کھٹکنے لگے۔زندگی کے اس مرحلہ پر اللہ تعالیٰ نے مجھے احمدیت سے متعارف کروایا۔مجھے علم ہوا کہ ایک احمدی دوست جیل میں قیدیوں کو دینی تعلیم دینے کے لئے جاتے ہیں چنانچہ میں نے ان سے ملنے کی کوشش کی۔معلوم ہوا کہ وہ جماعت احمد یہ بوسٹن کے پریذیڈنٹ ہیں اور حضرت بلال کی قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔میں ان سے ملا اور ان کی باتیں سنیں جو مجھے بڑی بھلی معلوم ہوئیں۔ان کا نام رقیب ولی ہے۔انہوں نے مجھے اپنے گھر بھی بلایا۔انہوں نے مجھے کتاب ”احمدیت یعنی حقیقی اسلام مطالعہ کے لئے دی۔میں نے جب کتاب کو پڑھا تو اسلام کے متعلق مزید معلوم کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ایک بک شاپ سے مجھے ”لائف آف احمد ملی۔میں نے اس کا مطالعہ کیا۔اس دوران میں نے ایک خواب دیکھی چنانچہ میں نے احمدیت میں داخل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔سواس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔فالحمد للہ۔گزشتہ برس امریکہ نے مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس کو خوش آمدید کہنے کی سعادت حاصل