تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 510 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 510

ག་ ۱۳۸۰۰ ۵۱۰ مختصر جائزہ پیش ہے۔سال تعداد کیمپس تعداد شامل ڈاکٹرز تعداد مریضان ۱۴۹۱ ۳۷ ۱۴ ١٩٩٣ ۹۲۶ ۳۹ ۳۵ ۱۹۹۴ ۱۸،۵۰۰ ۲۴۷ ۱۷۹ ۱۹۹۵ ۳۸،۳۰۲ ۵۳۹ ۴۲۴ ١٩٩٦ ۲۳،۹۵۶ ۳۱۹ ۲۷۲ ۱۹۹۷ مختلف زعامت ہائے علیاء اور اضلاع کو میڈیکل کیمپس کی اس سکیم میں نمایاں خدمت کا موقع ملا ہے۔ان میں سال ۱۹۹۶ء کے جائزہ کے مطابق ربوہ کو ۶۹ گلشن کراچی کو ۳۹ ، دہلی گیٹ لاہور کو ۲۹ ، ڈرگ روڈ و نارتھ کراچی کو ۳۸، ۳۸ کیمپس لگانے کی توفیق حاصل ہوئی۔اس کے علاوہ دیگر مجالس میں بالترتیب مغلپورہ لاہور ۱۷، دار الحمد فیصل آباد۱۲ ، دارالذکر فیصل آباد۱۲، گلشن حدید کراچی ۱۱، مظفر گڑھ ۱۰، ضلع اسلام آباد، سیالکوٹ شہر ۸ ، سیالکوٹ ضلع ۵ اور سرگودھا شہر کو 4 کیمپس لگانے کی توفیق ملی۔دیگر مجالس بھی کیمپس کا انعقاد کرتی رہیں اور روز افزوں اس میں ترقی ہورہی ہے۔ان میں اسلام آباد شرقی ، اسلام آباد شمالی ، اسلام آباد غربی ، اسلام آباد جنوبی ، دار النور فیصل آباد، کریم نگر ضلع فیصل آباد، بیت التوحید لاہور، دارالذکر لاہور ، ٹاؤن شپ لاہور، شاہدرہ لاہور ، اسلامیہ پارک لاہور، بیت النور لاہور۔ماڈل کالونی ، عزیز آباد کراچی شامل ہیں۔مرکزی شعبہ ایثار کی کارکردگی شعبہ ایثار مجلس انصار اللہ پاکستان کے تحت مختلف مجالس میں فری میڈیکل کیمپس کا سلسلہ جاری رہا۔۱۹۹۵ء سے مکرم صدر صاحب مجلس کی ہدایت کے مطابق مرکزی طور پر شعبہ ایثار کے تحت ربوہ کے ماحول میں فری میڈیکل کیمپس لگانے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ربوہ کے شمال مشرق میں دریائے چناب کے دونوں کناروں کے ساتھ تقریباً ۱۵ کلومیٹر چوڑی اور اور ۷۵ کلومیٹر لمبی پٹی میں اب تک ہزاروں مریضوں کا فری علاج کیا جا چکا ہے۔اس ذریعہ سے دس ہزار افراد سے رابطہ ہوا۔ربوہ میں علاج میں معاونت کرنے کے لئے ایک علیحدہ ٹیم بھی تیار کی گئی۔ان آنے والے مریضوں کی خبر گیری کا مناسب انتظام کیا گیا اور فضل عمر ہسپتال ربوہ سے تعاون حاصل کیا جاتا رہا۔۹۷۔۱۹۹۵ء کے سیلابوں کے دوران خصوصی طور پر اس علاقے کی خدمت کی گئی۔تین ہزار سے زائد مریضوں کا علاج مفت کیا گیا اور پچاس سے زائد کیمپ اس سیلاب کے دوران لگائے گئے۔صرف علاج ہی نہیں کیا گیا بلکہ سردیوں کے دوران گرم کپڑے دور دراز کے نظر انداز کئے لوگوں میں تقسیم کئے گئے۔سیلاب میں سینکڑوں ضروری اشیاء ان لوگوں کو فراہم کی گئیں۔