تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 460
۴۶۰ مال کی طرف توجہ دلائی۔حاضری ہی تھی۔تاریخ : ۲۱ جولائی ۱۹۹۱ء مقام: کھاریاں مرکزی نمائندگان : چوہدری شبیر احمد صاحب نائب صدر، مکرم عبدالرشید صاحب غنی قائد مال مختصر رپورٹ : اجلاس زعماء تحصیل کھاریاں: مرکزی نمائندگان نے علی الترتیب دعوت الی اللہ تعلیم ، تربیت اور مال کی طرف توجہ دلائی۔حاضری تھی۔تاریخ: ۲۵ و ۲۶ جولائی ۱۹۹۱ء مقام: مظفر آباد مرکزی نمائندگان: مکرم محمد اعظم صاحب اکسیر، مکرم محمد اسلم صاحب شاہ، مکرم غلام حسین صاحب مختصر رپورٹ : وفد شام پانچ بجے مکرم ناظم صاحب ضلع کے گھر پہنچا اور مغرب وعشاء کی نمازیں ادا کیں۔ان کے گھر ہی مرکز نماز تھا۔نماز جمعہ : اگلے روز مکرم محمد اسلم صاحب شاد نے خطبہ جمعہ میں جلسہ سالانہ انگلستان کی کامیابی اور حضرت بیگم صاحبہ کی صحت کے لئے دعا کی تحریک کی۔حضور انور کے بیرون ملک جانے کے بعد جماعت کی ترقی کا مختصر اذ کر کیا۔تربیت اولا د عملی نمونہ قیام نماز نماز جمعہ، نماز تہجد اور انصار اللہ کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔اجلاس عام : مکرم نصیر احمد صاحب طارق نے جماعت احمدیہ پر افضال الہی کے موضوع پر تقریر کی۔مکرم میجر ا بن السلام صاحب نے اپنے والد مکرم منشی علم الدین صاحب شہید کو ٹلی کی شہادت کے موضوع پر تقریر کی۔اس کے بعد مکرم محمد اعظم صاحب اکسیر نے تعلق باللہ سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے واقعات بیان گئے۔بعد ازاں مکرم حافظ محمود احمد صاحب مقامی مربی صاحب نے دعوت الی اللہ کے بارہ میں مختصر خطاب کیا۔آخر میں مکرم محمد اسلم صاحب شاد نے دعا کے بارہ میں اقتباسات پیش کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قبولیت دعا کے واقعات بیان کئے۔دعا کے بعد اجلاس برخاست ہوا۔حاضری انصار بارہ، خدام تیرہ، اطفال پانچ ، لجنات چار ، ناصرات پانچ کل اُنتالیس تھی۔مقام چکار تاریخ: ۲۷ جولائی ۱۹۹۱ء مرکزی نمائندگان : مکرم محمد اعظم صاحب اکسیر، مکرم محمد اسلم صاحب شاد، مکرم غلام حسین صاحب مختصر رپورٹ : اجلاس عام بعد نماز ظہر وعصر دو بجے اجلاس عام میں مکرم محمد اعظم صاحب اکسیر نے دعوت الی اللہ اور دعاؤں کے ذریعہ پھل حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی۔آخر میں مکرم محمد اسلم صاحب شاد نے جلسہ سالانہ انگلستان کا ذکر کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کی ترقیات اور موجودہ دور میں قیام نماز ، تربیت اولا داور دعاؤں کی طرف خصوصی توجہ دینے کی تلقین کی۔حاضری انصار چار، خدام تین ، اطفال تین ، لجنات پانچ ، ناصرات چار کل تعداد اُ نہیں تھی۔